الیکشن کمیشن نے معلومات تک رسائی کے حق سے متعلق ریگولیشنز جاری کردیئے
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے معلومات تک رسائی کے حق سے متعلق ریگولیشنز جاری کردیئے۔
ای سی پی کے مطابق ریگولیشنز کا اطلاق الیکشن کمیشن کے تمام دفاتر پر ہوگا، سیکریٹریٹ سطح پر چیف انفارمیشن افسر معاملات دیکھیں گے۔ صوبائی سطح پر پبلک انفارمیشن افسر معاملات دیکھیں گے۔ کوئی بھی شہری معلومات کے حصول کیلئے درخواست جمع کرواسکے گا، چیف انفارمیشن آفیسر یا پبلک انفارمیشن آفیسر 14 ورکنگ دنوں کے اندر فیصلہ کرے گا۔
ای سی پی کا کہنا ہے کہ کمیشن ہر صفحے کی 10 روپے فیس لے گا، معلومات تک رسائی نہ ملنے پر متاثرہ فریق 14 دن کے اندر چیف الیکشن کمشنر کے سامنے اپیل کرسکے گا۔ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کی کلاسیفائیڈ یا نان کلاسیفائڈ کیٹگری ہوگی۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق ہمیں تشویش ہے،نئے احتجاج کیلیے کنٹینر تیار کر لیا، رخ کسی بھی وقت کسی بھی شہر کی جانب مڑ سکتا ہے: شفیع جان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔