بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آئندہ 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کو آزاد، منصفانہ، غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد انداز میں منعقد کرانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ڈھاکہ میں بین الاقوامی مبصرین اور میڈیا نمائندگان کو بریفنگ دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بنگلہ دیش الیکشن کمیشن ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی کے تمام مراحل میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں عام انتخابات جمعرات کو، ملک میں 4 روزہ تعطیلات کا اعلان

انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی قسم کے تنازع، الزام یا اختلاف کو قائم شدہ قانونی طریقہ کار کے تحت نمٹایا جائے گا اور ہر قسم کی انتخابی بے ضابطگی کی سخت نگرانی کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ 350 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں سے 300 ارکان براہِ راست منتخب ہوتے ہیں جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں جو جماعتوں کو متناسب نمائندگی کی بنیاد پر دی جاتی ہیں۔

پارلیمنٹ کی مدت 5 سال ہے، آئندہ انتخابات میں 299 حلقوں سے مجموعی طور پر 2 ہزار 28 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے ووٹر فہرست میں حالیہ ترامیم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 45 لاکھ نئے ووٹرز کا اندراج کیا گیا ہے، جن میں 27 لاکھ خواتین شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش عام انتخابات: فوج اور سیکیورٹی اداروں کی 14 روز کے لیے تعیناتی

اس طرح ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 12 کروڑ 70 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، حکام کے مطابق ووٹر ڈیٹا کی درستگی بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔

پہلی بار بیرونِ ملک مقیم بنگلہ دیشی شہری آئی ٹی سے معاونت یافتہ پوسٹل بیلٹ سسٹم کے ذریعے ووٹ ڈال سکیں گے۔

The heads of international election observation missions to the 2026 #Bangladesh #Elections & Referendum met today, 11 February 2026, to discuss mission preparations and reflect on the pre-election environment and election preparations.

pic.twitter.com/1DziHYYgQo

— ANFREL (@Anfrel) February 11, 2026

محدود تیاری کے وقت کے باوجود تقریباً 8 لاکھ اوورسیز ووٹرز نے رجسٹریشن کروا لی ہے، ملک کے اندر موجود اہل ووٹرز کے لیے بھی پوسٹل بیلٹ کی سہولت دستیاب ہوگی۔

ووٹنگ ایک ہی دن صبح ساڑھے 7 بجے سے شام ساڑھے 4 بجے تک جاری رہے گی، ووٹر ٹرن آؤٹ بڑھانے کے لیے حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

پولنگ اور ووٹوں کی گنتی کی نگرانی الیکشن حکام پولنگ اسٹیشنز پر کریں گے اور نتائج کا اعلان موقع پر ہی کیا جائے گا، جس کے بعد ریٹرننگ افسران انہیں یکجا کریں گے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات سے قبل سی آئی ڈی اور ٹک ٹاک کا تعاون بڑھانے پر اتفاق

الیکشن کمیشن کے مطابق شفافیت یقینی بنانے کے لیے ملکی اور غیر ملکی مبصرین اور صحافی موجود ہوں گے، 45 ممالک اور تنظیموں کے نمائندگان، جن میں یورپی یونین کا بڑا وفد بھی شامل ہے، انتخابات کی نگرانی کریں گے، جبکہ ملک بھر میں ہزاروں مقامی مبصرین اور صحافی بھی تعینات کیے جائیں گے۔

ناصر الدین نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کے تعاون سے جامع سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ کسی بھی انتخابی تنازع کو آئین اور قانون کے مطابق حل کیا جائے گا اور کمیشن پُرامن اور بھرپور عوامی شرکت والے انتخابات کے انعقاد کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی ٹی الیکشن کمیشن اوورسیز بنگلہ دیش پارلیمانی انتخابات پوسٹل بیلٹ پولنگ اسٹیشنز ٹیکنالوجی ووٹرز یورپی یونین

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آئی ٹی الیکشن کمیشن اوورسیز بنگلہ دیش پارلیمانی انتخابات پوسٹل بیلٹ پولنگ اسٹیشنز ٹیکنالوجی ووٹرز یورپی یونین الیکشن کمیشن بنگلہ دیش کے مطابق کریں گے کے لیے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود