16سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیس،3مارچ تک وفاقی حکومت سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیس میں 3مارچ تک وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا،سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے متعلق پیشرفت رپورٹ بھی طلب کرلی گئی،جسٹس ارباب محمد طاہر نے 2صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا، وزارت آئی ٹی، پی ٹی اے اور پیمرا کو پیروائز کمنٹس جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا ریگولیشن، مانیٹرنگ اور پیکا کی حالیہ ترامیم پر عملدرآمد رپورٹ دیں،کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر ریگولیٹری فریم ورک سے متعلق جواب دیں،بچوں کی عمر کے جائزہ کے میکنزم کے حوالے سے اقدامات سے بھی آگاہ کریں،حکمنامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے آئینی مینڈیٹ سے متعلق بھی آگاہ کریں،بچوں کو آن لائن نقصانات کے اثرات سے تحفظ فراہم کرنا اہم ہے،بغیر ریگولیشن سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کیلئے خطرناک ہے،درستگزار کے مطابق کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے دنیا بھر میں قوانین ہیں۔
سونا2300روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 5لاکھ 28ہزار 562روپے ہو گئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔