اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیس میں 3مارچ تک وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا،سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے متعلق پیشرفت رپورٹ بھی طلب کرلی گئی،جسٹس ارباب محمد طاہر نے 2صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا، وزارت آئی ٹی، پی ٹی اے اور پیمرا کو پیروائز کمنٹس جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا ریگولیشن، مانیٹرنگ اور پیکا کی حالیہ ترامیم پر عملدرآمد رپورٹ دیں،کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر ریگولیٹری فریم ورک سے متعلق جواب دیں،بچوں کی عمر کے جائزہ کے میکنزم کے حوالے سے اقدامات سے بھی آگاہ کریں،حکمنامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے آئینی مینڈیٹ سے متعلق بھی آگاہ کریں،بچوں کو آن لائن نقصانات کے اثرات سے تحفظ فراہم کرنا اہم ہے،بغیر ریگولیشن سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کیلئے خطرناک ہے،درستگزار کے مطابق کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے دنیا بھر میں قوانین ہیں۔

سونا2300روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 5لاکھ 28ہزار 562روپے ہو گئی 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا