غزہ، امریکی تھرموبیرک بموں کے استعمال کا انکشاف، 3 ہزار فلسطینیوں کا وجود ہی ختم، قطری میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
غزہ:
اسرائیل کے ہولناک جنگی اقدامات میں استعمال ہونے والے امریکی سپلائی شدہ تھرمل اور تھرموبارک ہتھیاروں نے غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کو ایسا نقصان پہنچایا کہ ان کے جسم کے آثار تک باقی نہیں رہے۔
الجزیرہ کی ہوش ربا تحقیقات کے مطابق 2,842 فلسطینی ایسے ہیں جو محض غائب ہو گئے، صرف خون کے دھبے یا چھوٹے ٹکڑے رہ گئے۔
10 اگست 2024 کی صبح یاسمین مہانی اپنے بیٹے سعد کو تلاش کرتے ہوئے المیہ کی نظارے میں پھنس گئی۔ وہ بتاتی ہیں کہ میں مسجد میں گئی تو اپنے پیروں تلے گوشت اور خون تھا۔ سعد کا کچھ بھی نہیں ملا، نہ جسم، نہ کچھ دفنانے کے لیے۔
تحقیق کے مطابق اسرائیل نے ممنوعہ تھرمل اور تھرموبارک بم استعمال کیے، جن کے درجہ حرارت 3,500 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتے ہیں، اور یہ بم پوری عمارتوں اور انسانوں کو مکمل طور پر ختم کر دیتے ہیں۔
مزید پڑھیںٹرمپ سے وعدہ نبھا دیا؛ انڈونیشیا کی 8 ہزار فوجی اہلکاروں کو غزہ بھیجنے کی تیاری
پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ہاتھوں غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت
غزہ کی سول ڈیفنس ٹیموں نے ہر حملے کے بعد ہلاکتوں کی مکمل جانچ کر کے یہ خوفناک اعداد و شمار مرتب کیے۔
غزہ کے سول ڈیفنس کے ترجمان محمود باسل نے بتایا کہ ہم کسی ہٹ کیے گئے گھر میں جاتے ہیں، مقیم افراد کی تعداد اور ملنے والی باقیات کو موازنہ کرتے ہیں، لیکن کوئی اندازہ نہیں کہ کس کی باقیات ہیں۔
ماہرین اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی یہ خونریز حکمت عملی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور دنیا کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات(security risk) کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کھلے مقامات پر ڈرون کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال کی اجازت ہو گی تاہم اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمے داری منتظمین پر عائد ہو گی۔