سانحہ مسجد خدیجتہ الکبریٰؑ، ایم ڈبلیو ایم کا کراچی میں دہشتگردی کے خلاف تعزیتی جلسہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
علامہ حیات عباس نجفی کا کہنا تھا کہ یہ امر نہایت تشویشناک ہے کہ کالعدم دہشتگرد تنظیموں کے سہولت کار آج بھی کھلے عام سرگرم ہیں اور افسوسناک طور پر انہیں حکومتی سرپرستی اور خاموش سہولت کاری حاصل ہے، کالعدم جماعتوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے بجائے محض کاغذی پابندیاں اور نمائشی بیانات دیے جا رہے ہیں، جس کا نتیجہ ایسے خونی واقعات کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین و دعا کمیٹی کی جانب سے سانحہ مسجد خدیجتہ الکبریٰؑ میں ہونے والی دہشتگردی کے خلاف اور شہدائے مظلوم کے بلندی درجات کے لیے محفل شاہِ خراسان پر ایک تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر شہدائے سانحہ کی یاد میں چراغاں کیا گیا اور اجتماعی دعا کی گئی۔ تعزیتی جلسے میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں بشمول علامہ حیات عباس نجفی، آغا علی رضوی، ناصر الحسینی، راؤ کامران محمود صدر کراچی پاکستان عوامی تحریک، علامہ لطیف قمی، ڈاکٹر نجم الحسن، ایڈوکیٹ میر حسن جوینجو، ماسٹر منیب شیریلاٹ، منصور حسین وارث، شیراز زیدی سمیت علماء کرام، سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے سانحہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ملک میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور ریاستی ناکامی کا واضح ثبوت قرار دیا۔
مرکزی رہنما علامہ حیات عباس نجفی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسجد خدیجتہ الکبریٰ اسلام آباد میں دہشتگردی کا واقعہ انتہائی قابلِ مذمت اور ریاستی ناکامی کا کھلا ثبوت ہی، مسلسل دہشتگردی کے واقعات اس بات کا اعلان ہیں کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں تو عام شہری کس سے انصاف کی امید رکھیں؟ سانحہ حکومتی اور ریاستی اداروں کی سنگین نااہلی، غفلت اور دوغلی پالیسیوں کا واضح ثبوت بھی ہے، وفاقی دارالحکومت، جہاں دن رات سخت ترین سیکورٹی انتظامات، چیک پوسٹس، سیف سٹی کیمرے اور خفیہ اداروں کی موجودگی کا دعویٰ کیا جاتا ہے، وہاں ایک مسجد کو نشانہ بنایا جانا اس بات کا اعلان ہے کہ عوام کا جان و مال محفوظ نہیں۔
علامہ حیات عباس نجفی کا کہنا تھا کہ یہ امر نہایت تشویشناک ہے کہ کالعدم دہشتگرد تنظیموں کے سہولت کار آج بھی کھلے عام سرگرم ہیں اور افسوسناک طور پر انہیں حکومتی سرپرستی اور خاموش سہولت کاری حاصل ہے، کالعدم جماعتوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے بجائے محض کاغذی پابندیاں اور نمائشی بیانات دیے جا رہے ہیں، جس کا نتیجہ ایسے خونی واقعات کی صورت میں سامنے آ رہا ہے، اس دہشتگردی میں ملوث عناصر کے روابط صہیونی ایجنسیوں سے ہونے کے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں، جو پاکستان کے امن، سلامتی اور مذہبی ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنے کی منظم سازش کا حصہ ہے، سوال یہ ہے کہ جب دشمن ایجنسیاں ملک کے حساس ترین شہر میں اپنے آلہ کاروں کے ذریعے کارروائیاں کر سکتی ہیں تو خفیہ اداروں کی کارکردگی اور حکومتی دعووں کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے؟یہ واقعہ ریاست کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مساجد، عبادت گاہیں اور نہتے شہری آج بھی دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں جبکہ حکمران طبقہ اقتدار کی کشمکش اور مفادات کی سیاست میں مصروف ہے، ہم اس بزدلانہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعے میں ملوث تمام دہشتگردوں، سہولت کاروں اور پشت پناہوں کو بے نقاب کرکے فوری اور عبرتناک سزا دی جائے، مزید یہ کہ وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے محض بیانات کے بجائے عملی اقدامات کریں، کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور دارالحکومت سمیت پورے ملک میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ جلسے کے اختتام پر شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور شرکاء نے شہداء کی یاد میں شمع روشن کی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ حیات عباس نجفی اور ریاستی ہیں اور کے خلاف
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان