عمران خان کی طبی رپورٹ سے متعلق گردش کرنے والی معلومات گمراہ کن قرار
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
سابق وزیراعظم عمران خان کی مبینہ طبی رپورٹ سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کو گمراہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: آنکھ کا مسئلہ یا کچھ اور؟ عمران خان کو پمز اسپتال لانے کے بعد کیا کچھ ہوتا رہا؟
مصدقہ ذرائع کے مطابق عمران خان کو ماضی میں بینائی سے متعلق مسائل درپیش رہے ہیں، جن کا ذکر ان کی عوامی تقاریر اور بیانات میں بھی کیا جاتا رہا ہے، خصوصاً دائیں آنکھ کی کمزور بینائی کے حوالے سے۔
سرکاری بیانات اور معالجین کے مطابق عمران خان کا طبی معائنہ اور علاج ایسے عارضے کے باعث کیا گیا جس میں آنکھوں کی شریانوں کے دباؤ میں اضافہ شامل تھا، جو پہلے سے موجود طبی مسائل سے مطابقت رکھتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کسی اچانک یا من گھڑت بیماری کا نتیجہ نہیں بلکہ پہلے سے رپورٹ شدہ طبی کیفیت کا تسلسل ہے۔
مزید پڑھیں: آنکھ میں انفیکشن، کیا عمران خان کو پمز اسپتال لایا گیا؟
متعلقہ حلقوں نے زور دیا ہے کہ غیر مصدقہ رپورٹس پر انحصار کرنے کے بجائے مستند طبی دستاویزات اور معالجین کے بیانات کو بنیاد بنایا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل سابق وزیرِاعظم عمران خان عمران خان آنکھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل عمران خان ا نکھ
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔