پشاور:

پی ٹی آئی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے آنے والی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی کو جیل میں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے اور ان کو علاج معالجے کی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اس پر فوری ایکشن لے اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ سمیت وزیراعلیٰ مریم نواز کے خلاف بھی ایف آئی آر کاٹی جائے جو سیاسی انتقام میں یہ بھول گئی ہیں کہ قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں۔

اپنے ویڈیو پیغام میں شوکت یوسف زئی نے کہا کہ وفاقی وزرا جھوٹ بولتے رہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل مینول سے زائد سہولیات دی جا رہی ہیں، سلمان صفدر کی رپورٹ نے سب کا جھوٹ آشکار کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کے سب سے پاپولر لیڈر ہیں، ان کو جیل میں جو کمرہ دیا گیا ہے وہاں کئی کئی گھنٹے بجلی نہیں ہوتی ہے جس کی وجہ سے گرمیوں میں حبس پیدا ہوتا ہے اور ان کے کمرے میں کیڑے مکوڑے پھرتے ہیں۔

شوکت یوسفزئی نے کہا یہ بات انتہائی تشویش ناک ہے کہ بانی کو نہ صرف صحت کی سہولیات دینے سے انکار کیا جاتا رہا بلکہ ان کو معیاری کھانا اور دیگر سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا۔ حکمرانوں کے دعوؤں کے برعکس بانی پی ٹی ائی کے کمرے میں موجود ٹی وی بھی نہیں چل رہا اور وہ کھانا بھی اپنے پیسوں سے کھاتے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائیں کہ انہوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ بانی کی صحت ٹھیک نہیں ہے، غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔

شوکت یوسف زئی نے کہا انہیں یقین تھا کہ سلمان صفدر کی رپورٹ آنے کے بعد سپریم کورٹ نہ صرف یہ کہ ان کے لیڈر سے ان کی فیملی کی ملاقاتوں پر پابندی ختم کرے گی بلکہ ان کے علاج معالجے کے دوران ان کی فیملی کی موجودگی کو لازمی قرار دے گی۔

پی ٹی آئی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ بانی کی صحت پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا، ان کا علاج فوری طور پر بانی کی مرضی کے ڈاکٹروں سے کروانے کا حکم دیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے کہ بانی پی ٹی ا

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان