متعلقہ حکام کے پاس 2 دن ہیں، بہتر ہے کہ وہ بانی کا علاج کرالیں: علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
--فائل فوٹو
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ متعلقہ حکام کے پاس دو دن ہیں، بہتر ہے کہ وہ بانی کا علاج کرالیں، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم کے لیے بہتر ہے کہ فوری علاج کرایا جائے اور صحت پر کام کیا جائے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سلمان صفدر سے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق دریافت کیا، آج دل ہل گیا، ہم نے ڈھائی سال سے جیل میں بیٹھے شخص کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔
علیمہ خان کا کہنا ہے کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم کو 3 ماہ سے بتایا جارہا تھا کہ آنکھ میں تکلیف ہے، بانی پی ٹی آئی 3 ماہ سے کہتے رہے کہ انہیں نظر نہیں آرہا، اس جیل میں صرف عبدالغفور ہی نہیں بلکہ کیمروں کے ذریعے سب کچھ دیکھا جارہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دو ہفتوں سے دیکھا جارہا تھا کہ بانی کی آنکھ دیکھنا بند ہوگئی ہے، لیکن 3 ماہ سے انہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ آنکھ خراب ہوسکتی ہے، اتنی جرات کی گئی کہ بانی کی آنکھ کو خراب ہونے دیا گیا۔
بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہاہے کہ روز ہمارے وارنٹ گرفتاری نکل رہے ہیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی اس لیے جیل میں ہیں کیونکہ عدلیہ آزاد نہیں ہے، اگر اس وقت انصاف مل رہا ہوتا تو وہ جیل میں نہ ہوتے، بانی کا علاج ان کے ذاتی معالج کی موجودگی میں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بانی نے واضح کیا ہے کہ وہ ان کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانی نے ایک مجرم عبدالغفور انجم کی نشاندہی کردی ہے، بانی کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا گیا اور یہ جرم عبدالغفور انجم نے کیا، بانی نے کہا ہے کہ عبدالغفور انجم کے خلاف مقدمہ چلایا جائے، بانی نے بتایا کہ آنکھ میں تکلیف پر صرف سادہ ڈراپ دیا گیا، بینائی واپس نہیں آئی اور وہ صرف روشنی دیکھ سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عبدالغفور انجم علیمہ خان نے کہا کہ جیل میں کہ بانی
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔