ناروے کے سفارتکار ایپسٹین اسکینڈل کی زد پر، اوسلو امن معاہدے پر سوالیہ نشان
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
1993 کے اوسلو امن معاہدے کے مرکزی معمار اور نارویجن سفارتکار ٹرجے روڈ لارسن پر بدعنوانی اور بلیک میلنگ کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کی نئی دستاویزات اور نارویجن میڈیا تحقیقات کے مطابق لارسن کے بدنام زمانہ مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین سے قریبی روابط تھے، جن میں مشکوک قرضے، مبینہ ویزا فراڈ اور ایپسٹین کی وصیت میں ان کے بچوں کے لیے کروڑوں ڈالر کی رقم شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو
رپورٹس کے مطابق لارسن نے نیویارک میں انٹرنیشنل پیس انسٹیٹیوٹ کے سربراہ کی حیثیت سے ایپسٹین سے منسلک نوجوان روسی خواتین کے لیے امریکی حکام کو سفارشی خطوط لکھے، جنہیں ’غیر معمولی صلاحیتوں‘ کی حامل قرار دیا گیا، حالانکہ ان پر انسانی اسمگلنگ اور استحصال کے الزامات تھے۔
Mona Juul and Terje Roed Larsen, the Norwegian husband and wife team that were the architects of the disastrous Oslo process (which side-stepped international law, devastated Palestinian rights for three decades, and consolidated the Israel regime’s unlawful position in…
— Craig Mokhiber (@CraigMokhiber) February 3, 2026
دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایپسٹین نے 2013 میں لارسن کو 1 لاکھ 30 ہزار ڈالر قرض دیا، جبکہ اپنی وصیت میں ان کے 2 بچوں کے لیے مجموعی طور پر ایک کروڑ ڈالر مختص کیے۔
اس انکشاف کے بعد لارسن کی اہلیہ اور اردن اور عراق میں ناروے کی سفیر مونا جول اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئی ہیں اور ان کی سیکیورٹی کلیئرنس بھی واپس لے لی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: ایپسٹین فائلز نے میری ازدواجی زندگی کی تکلیف دہ یادیں تازہ کر دیں، میلنڈا فرنچ گیٹس
فلسطینی رہنماؤں نے اوسلو معاہدے کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے مذاکرات کسی ایسے ثالث کے ذریعے ہوئے ہوں جو بیرونی دباؤ یا بلیک میلنگ کا شکار تھا۔
فلسطینی نیشنل انیشی ایٹو سیاسی جماعت کے سیکریٹری جنرل مصطفیٰ البرغوثی کا کہنا ہے کہ وہ بدعنوانی کے الزامات پر بالکل بھی حیران نہیں۔
’ہمیں ابتدا ہی سے اس شخص کے بارے میں کبھی اطمینان نہیں تھا، اوسلو ایک جال تھا اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرجے روڈ لارسن پورے عرصے میں مؤثر طور پر اسرائیلی فریق کے زیرِ اثر رہے۔‘
مزید پڑھیں:
مصطفیٰ البرغوثی کا کہنا تھا کہ ایپسٹین جیسی مبینہ طور پر موساد سے منسلک شخصیت کی جانب سے روڈ لارسن کے خاندان کو ممکنہ طور پر لاکھوں ڈالر کی منتقلی کا انکشاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ بدعنوانی ’فلسطینی عوام کے مفادات کے برخلاف اسرائیل کے مفادات کی خدمت کے لیے کی گئی تھی۔‘
لاکھوں دستاویزات کے اجرا کے بعد بدنامِ زمانہ ایپسٹین اور اسرائیل کے درمیان روابط بھی نمایاں طور پر سامنے آ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں:
دستاویزات میں ایپسٹین کے اسرائیلی شخصیات اور اداروں سے روابط کا بھی ذکر ہے، جس کے بعد ناروے میں 1993 کے خفیہ مذاکرات کے نجی ریکارڈ کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
حکام نے اسکینڈل کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ اس پیش رفت نے مشرقِ وسطیٰ امن عمل کی تاریخ پر ایک اور سوالیہ نشان ڈال دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرنیشنل پیس انسٹیٹیوٹ اوسلو امن معاہدہ بلیک میلنگ ٹرجے روڈ لارسن جیفری ایپسٹین سیکیورٹی کلیئرنس عراق مشرق وسطیٰ مونا جول ناروے نیویارک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیشنل پیس انسٹیٹیوٹ اوسلو امن معاہدہ بلیک میلنگ ٹرجے روڈ لارسن جیفری ایپسٹین سیکیورٹی کلیئرنس مونا جول ناروے نیویارک روڈ لارسن کے لیے
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ