احتجاج کے دوران مطالبہ کیا گیا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف بلا تفریق سخت کارروائی کی جائے اور ایسے تمام دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا جائے جو پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں دہشت گردی کے پیچھے بیرونی قوتیں بھی کارفرما ہیں جو پاکستان کو مستحکم نہیں دیکھنا چاہتیں۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا سانحہ مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں حملے کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرے کا انعقاد

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا سانحہ مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں حملے کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرے کا انعقاد

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا سانحہ مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں حملے کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرے کا انعقاد

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا سانحہ مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں حملے کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرے کا انعقاد

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا سانحہ مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں حملے کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرے کا انعقاد

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا سانحہ مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں حملے کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرے کا انعقاد

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا سانحہ مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں حملے کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرے کا انعقاد

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا سانحہ مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں حملے کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرے کا انعقاد

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا سانحہ مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں حملے کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرے کا انعقاد

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا سانحہ مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں حملے کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرے کا انعقاد

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا سانحہ مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں حملے کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرے کا انعقاد

اسلام ٹائمز۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر سانحہ مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ ترلائی اسلام آباد میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر شہداء کی یاد میں شمع روشن کی گئی اور شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی گئی، ان کے اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دُعا کی گئی اور دہشت گردی کے خلاف پُرامن احتجاج کیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی جیسے انسانیت سوز عمل کا فوری خاتمہ ناگزیر ہے، کیونکہ اس کی لپیٹ میں معصوم بچے، بزرگ اور بے گناہ شہری آتے ہیں۔ احتجاج کے دوران مطالبہ کیا گیا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف بلا تفریق سخت کارروائی کی جائے اور ایسے تمام دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا جائے جو پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں دہشت گردی کے پیچھے بیرونی قوتیں بھی کارفرما ہیں جو پاکستان کو مستحکم نہیں دیکھنا چاہتیں۔

کراچی پریس کلب میں ہونے والے اس احتجاجی پروگرام سے علامہ صادق جعفری (صدر  مجلس وحدت مسلمین کراچی)، ڈاکٹر ثروت عسکری، ہیومن رائٹس کے جمشید حسین، ڈاکٹر محبوب علی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے بین الاقوامی سازش قرار دیا۔ اس موقع پر ہیومن رائٹس کونسل پاکستان کی سینیئر وائس پریزیڈنٹ تابندہ رضوی نے مجلس وحدت مسلمین کے صدر احسن عباس رضوی، عارف رضا زیدی، ناصر الحسینی، مفتی علی مرتضیٰ، ممتاز مذہبی اسکالر ڈاکٹر شابانہ کاظمی، ڈاکٹر ثروت عسکری اور صدر کراچی ایم ڈبلیو ایم محمد صادق جعفری سمیت نامور علماء و شخصیات کو مدعو کیا، جنہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پروگرام میں ہیومن رائٹس کونسل پاکستان کے سیکرٹری جنرل ایاز مغل، کراچی ڈویژن کے صدر بشیر احمد درس، جنرل سیکرٹری تنزیلہ خرم، ڈسٹرکٹ سینٹرل کے سیکرٹری جندل عباس اور اسامہ قائم خانی، ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے صدر جاوید حسین اور جنرل سیکرٹری ارسلان احمد صدیقی، ڈسٹرکٹ ایسٹ سے حسن رضا اور ان کے ساتھیوں، جبکہ ڈسٹرکٹ ویسٹ کے صدر ملک طارق، جنرل سیکرٹری اکبر مغل اور راجہ اظہر نے خصوصی انتظامات کیے۔ تمام مقررین نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور مذمت اور شہداء سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ آخر میں شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور امن، انسانیت اور پاکستان کے استحکام کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جاتی رہے گی۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جو پاکستان کو دہشت گردی کے کہ دہشت گردی کیا گیا کے صدر

پڑھیں:

بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔

ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری