کراچی منتقل ہونے پر صبا قمر کا استغفر اللہ کہنا، جویریہ عباسی نے آڑے ہاتھوں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
صبا قمر کے مستقل طور پر کراچی منتقلی پر دیا گیا بیان اب بھی شوبز کی دنیا میں زیر بحث ہے جس پر اب تک تنقید اور پھر جواب در جواب کا سلسلہ جاری ہے۔
معروف میزبان اور مزاحیہ اداکار احمد علی بٹ کے پوڈ کاسٹ میں اس بار مہمان جویریہ عباسی تھیں جو اپنی دلکشی اور منجھی ہوئی اداکاری کے باعث کافی شہرت رکھتی ہیں۔
احمد علی بٹ سے گفتگو میں جویریہ عباسی نے ساتھی اداکارہ صباقمر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہر جس نے آپ کو شہرت دی، اس کا احترام کرنا چاہیے۔ اس طرح کے جملے مناسب نہیں ہیں۔
جویریہ عباسی نے کہا کہ ہر شخص کو اپنے شہر سے دلی لگاؤ ہوتا ہے اور وہ دنیا میں کہیں بھی بس جائے اس کے دل میں اس کا آبائی علاقہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے جس کے خلاف وہ نہ کوئی بات کرتا ہے اور نہ سنتا ہے۔
جویریہ عباسی کے انٹرویو کا یہ کلپ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور ایک بار پھر کراچی کی حمایت اور مخالفت میں بحث چھڑ گئی۔
اسی دوران اداکارہ صبا قمر نے انسٹاگرام پر ایک اسٹوری شیئر کی جس میں وضاحت کی گئی کہ استغفراللہ ایک جملہ ہے جو اللہ سے معافی مانگنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لوگوں نے میری بات کو غلط سمجھا۔
صبا قمر نے ایک پوسٹ میں زور دیا کہ ہر کسی کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ آزادی اظہار رائے اہم ہے اور کسی کو خوف یا پابندی کی وجہ سے اپنے خیالات چھپانے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا جب ایک انٹرویو میں صبا قمر نے کراچی منتقل ہونے کے سوال پر برملہ جواب دیا تھا کہ استغفراللہ ۔۔
یہ الفاظ کراچی کے رہائشیوں کو نہایت ناگوار گزرے تھے اور اُس وقت بھی صبا قمر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل جویریہ عباسی
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔