سرینگر، کمیونٹی ہیلتھ ورکروں کا مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
ذرائع کے مطابق ایکریڈیٹیڈ سوشل ہیلتھ ایکٹیوسٹ (آشا) تنظیموں سے وابستہ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد شہر میں جمع ہوئی اور کم از کم اجرت ایکٹ کے نفاذ اور مناسب معاوضے کا مطالبہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کمیونٹی ہیلتھ ورکروں نے مطالبات کے حق میں سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ذرائع کے مطابق ایکریڈیٹیڈ سوشل ہیلتھ ایکٹیوسٹ (آشا) تنظیموں سے وابستہ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد شہر میں جمع ہوئی اور کم از کم اجرت ایکٹ کے نفاذ اور مناسب معاوضے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے قابض حکام کے خلاف شدید نعرے لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ بار بار توجہ دلانے کے باوجود ان کے مطالبات پورے کرنے میں ناکام ہے۔احتجاجی ورکروں نے کہا کہ وہ برسوں سے پسماندہ دیہی علاقوں میں نچلی سطح پر صحت کی ضروری خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے صحت عامہ کے نظام کو مضبوط بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ملازمت کے تحفظ کے فقدان کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی طرف سے انہیں کم از کم اجرت کے دائرے میں لانے میں ناکامی ان کے لیے سخت ذہنی تناﺅ کا سبب ہے، وہ انتہائی کم اعزازیہ پر کام کرنے پر مجبور ہیں اور جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔