سال 2026 کا پہلا سی ڈی اے بورڈ اجلاس، متعدد منصوبوں کی منظوری WhatsAppFacebookTwitter 0 12 February, 2026 سب نیوز


اسلام آباد (سب نیوز ) چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی زیرِ صدارت سال 2026 کا سی ڈی اے بورڈ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں ممبر ایڈمن، ممبر فنانس، ممبر انجینئرنگ، ممبر انوائرمنٹ، ممبر پلاننگ و ڈیزائن سمیت دیگر سینئر افسران نے شرکت کی، جبکہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے بذریعہ زوم لنک اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں سال 2026 کے پہلے بورڈ اجلاس کے دوران متعدد اہم ایجنڈا آئٹمز زیرِ بحث لائے گئے اور مختلف ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

بورڈ نے لوئر کورٹس سے متصل وکلاء چیمبرز اور کثیر المنزلہ پارکنگ ایریا کی تعمیر کے لیے پلاٹ کی الاٹمنٹ کی منظوری دے دی۔ یہ پلاٹ منسٹری آف لاء اینڈ جسٹس کی درخواست پر پہلے سے الاٹ شدہ پلاٹ کے متبادل کے طور پر فراہم کیا گیا ہے تاکہ وکلاء کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

اجلاس میں پاکستان انجینئرنگ کونسل کو بھی پلاٹ الاٹ کرنے کی منظوری دی گئی۔

سی ڈی اے بورڈ نے موو ایریا (Mauve Area) میں فیلڈ آڈٹ آفس کمپلیکس کی تعمیر کے لیے اراضی کی فراہمی کی درخواست پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اسلام آباد میں پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے شاہدرہ ڈیم منصوبے کی فیزیبلٹی اسٹڈی، تفصیلی ڈیزائن، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی اسٹڈی اور کنڈکشن لائنز سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا تاکہ مستقبل کی ضروریات کو بروقت پورا کیا جا سکے۔

اجلاس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامی حدود کے لیے ڈیجیٹل بیس میپ، جغرافیائی ویب پورٹلز اور فیصلہ سازی کے نظام کے لیے جی آئی ایس پر مبنی ڈیٹا سیٹس تیار کرنے کے حوالے سے سپارکو اور جنرل سروے آف پاکستان سے تکنیکی معاونت حاصل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

علاوہ ازیں سی ڈی اے بورڈ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت میں فائر ڈیٹیکشن، فائر سپریشن، لائف سیفٹی اور ایچ وی اے سی سسٹمز کی تشخیص، بحالی، اپ گریڈیشن، ڈیزائننگ، خریداری اور تعمیر کے لیے سرکاری یا سرکاری ملکیت کے ادارے (ایس او ای) کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری بھی دے دی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کی ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے، شوکت یوسفزئی عمران خان کی ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے، شوکت یوسفزئی پی ٹی آئی نے عمران خان کی صحت سے متعلق احتجاج کی کال دے دی عمران خان کو جیل میں کیا سہولیات دستیاب ہیں؟ تفصیلی رپورٹ سامنے آ گئی چین کی لانچنگ کے ذریعے پاکستان کے پی آر ایس سی ۔ای او ٹو سیٹلائٹ سمیت سات سیٹلائٹس مدار میں داخل ہو گئے پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، ہر ضلع تک سہولتیں پہنچائیں گے: مریم نواز سماجی انصاف اور بین المذاہب ہم آہنگی ہی پائیدار امن کی بنیاد ہیں: وزیراعظم TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سی ڈی اے بورڈ کی منظوری اجلاس میں سال 2026 کے لیے

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ