جیل میں طبی غفلت کا الزام: عمران خان کی آنکھ متاثر، پی ٹی آئی کا قانونی کارروائی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف نےعمران خان سے متعلق سپریم کورٹ میں بیرسٹر سلمان صفدر کی جانب سے جمع کرائی گئی تفصیلی رپورٹ اور اس کی روشنی میں عدالتی احکامات پر گہری تشویش اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔
پارٹی نے عمران خان کی صحت، خصوصاً ان کی آنکھ کے مسئلے سے متعلق رویے کی شدید مذمت کی ہے۔
مرکزی شعبہ اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رپورٹ نے ایسے حقائق سامنے رکھے ہیں جو انتہائی تشویشناک ہیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق جیل میں مختلف مقدمات کا سامنا کرنیوالے 73 سالہ سابق وزیراعظم کی بینائی شدید متاثر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھوں کے معائنے اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کا حکم
پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ اکتوبر 2025 تک ان کی بینائی معمول کے مطابق تھی، تاہم بارہا شکایات کے باوجود انہیں بروقت ماہر امراضِ چشم تک رسائی فراہم نہیں کی گئی۔
پارٹی کا مؤقف ہے کہ تاخیر کے باعث ان کی دائیں آنکھ میں خون کا لوتھڑا بن گیا جس سے شدید نقصان ہوا اور اب صرف 15 فیصد بینائی باقی رہ گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تین سے 4 ماہ تک صرف آئی ڈراپس پر اکتفا کیا گیا اور ان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو رسائی نہیں دی گئی، جو سنگین غفلت کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے حالیہ سماعت کے دوران میڈیکل ٹیم تشکیل دینے اور 16 فروری سے قبل طبی معائنہ مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقات، سلمان صفدر کی 7 صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع
عدالت عظمیٰ کی جانب سے عمران خان کو اپنے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
تاہم پی ٹی آئی نے فیملی ممبر کی موجودگی میں طبی معائنہ کرانے کی درخواست مسترد کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
’اتنے اہم معاملے میں مکمل شفاف اور آزادانہ طبی سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔‘
’پارٹی سابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب، وزیر جیل خانہ جات پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر متعلقہ حکام کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔‘
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد کردی
پارٹی نے واضح کیا کہ عمران خان کی صحت کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی کا حساب لیا جائے گا۔
پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر ان کے ذاتی معالجین تک مکمل رسائی دی جائے اور آنکھ کے علاج کے لیے انہیں ان کے معالجین کی تجویز کردہ کسی مناسب اور بہترین ہسپتال منتقل کیا جائے۔
ساتھ ہی قانونی ٹیم تک بلا رکاوٹ رسائی اور فیملی ملاقاتوں کی مکمل بحالی کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ عمران خان کی صحت اور حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پارٹی عوامی تحریک چلانے کا حق بھی محفوظ رکھتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بیرسٹر سلمان صفدر پی ٹی آئی سپرنٹنڈنٹ سپریم کورٹ عبدالغفور انجم عمران خان قانونی چارہ جوئی وزیر اعلیٰ پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل پی ٹی ا ئی سپریم کورٹ عبدالغفور انجم قانونی چارہ جوئی وزیر اعلی پنجاب عمران خان کی سپریم کورٹ کی جانب سے پی ٹی آئی گیا ہے
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔