سپریم کورٹ نے عمران خان کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواستگزار نے ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار کو چیلنج کر رکھا ہے۔
سماعت کے دوران وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت اپیل کے قانونی پہلوؤں کا بھی جائزہ لے گی، اب ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بھی آ چکا ہے اور اس فیصلے کے خلاف اپیلیں زیرِ التوا ہیں۔
چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورتِ حال میں کیا یہ مقدمہ غیر مؤثر نہیں ہو چکا؟ اس پر وکیل لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر یہ ایک معمول کا مقدمہ ہوتا تو وہ بھی اسے غیر مؤثر قرار دینے کی بات کرتے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر عدالت مقدمے کی قانونی حیثیت پر حکم جاری کرتی ہے تو اس سے فریقین متاثر ہو سکتے ہیں۔ وکیل لطیف کھوسہ نے استدلال کیا کہ عدالت نے یہ طے کرنا ہے کہ کلاک (وقت) واپس کرنا ہے یا نہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ اپیلیٹ کورٹ کا کردار ادا نہیں کرے گی اور اسے ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار کا بھی خیال رکھنا ہے۔
عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس نے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔