جام کمال، کمبوڈین وزیر تجارت کا نسٹ اور این ایس ٹی پارک کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزدیسک)۔:وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور کمبوڈیا کی وزیر تجارت چام نیمول نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اور نیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (این ایس ٹی پی) کا دورہ کیا تاکہ ٹیکنالوجی، اختراعی تحقیق اور صنعت میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کی راہیں تلاش کی جا سکیں۔وفد کا استقبال ایئر مارشل (ر)رضوان اور نسٹ کی سینئر انتظامیہ نے کیا جنہوں نے دونوں وزراء کو یونیورسٹی کے اکیڈمیا-انڈسٹری-حکومتی تعاون کے مربوط ماڈل کے بارے میں آگاہ کیا۔قیادت نے ایک جامع اختراعی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کا نسٹ کا وژن پیش کیا جو تعلیم، جدید تحقیق، کمرشلائزیشن اور صنعتی شراکت کو ایک فریم ورک کے تحت جوڑتا ہے۔
این ایس ٹی پی اور ٹیکنو پارک کے دورے کے دوران وفد کو مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، سمارٹ سٹی ٹیکنالوجیز، روبوٹکس، ایرو سپیس انجینئرنگ، بائیو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔وزراء کو مقامی ضروریات اور بین الاقوامی تجارتی معیارات کے مطابق تیار کردہ چپ ڈیزائن، اعلیٰ کارکردگی والے کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے آلات میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی مقامی صلاحیتوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔وفاقی وزیر جام کمال خان نے نسٹ کی ٹیکنالوجی میں جدت کو سراہا اور پاکستان کی علمی معیشت کو مضبوط بنانے میں ادارے کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی سفارت کاری کا مستقبل ٹیکنالوجی سے چلنے والی ترقی میں مضمر ہے،پاکستان کو نہ صرف ایک تجارتی ملک بلکہ ٹیکنالوجی پیدا کرنے والی اور برآمد کرنے والی معیشت کے طور پر بھی اپنا مقام حاصل کرنا چاہیے۔ جام کمال خان نے این ایس ٹی پی کے محققین، سٹارٹ اپس اور صنعتی شراکت داروں کی قومی صلاحیت کی تعمیر میں تعاون کرنے پر تعریف کی اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایسے ماحولیاتی نظام پاکستان کی عالمی مسابقت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔کمبوڈیا کی وزیر تجارت چام نیمول نے پاکستان کے سٹرکچرڈ انوویشن ماڈل کی تعریف کی اور این ایس ٹی پی ایکو سسٹم کو متاثر کن قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اکیڈمی، صنعت اور حکومت کا ایک پلیٹ فارم کے تحت انضمام ابھرتی ہوئی معیشتوں کو اپنی صنعتی اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کو جدید بنانے کے لیے ایک عملی خاکہ فراہم کرتا ہے۔کمبوڈیا کی وزیر نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ریسرچ ایکسچینج اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں تعاون کو وسعت دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے اپنے ملک کے عزم پر زور دیا۔وفد نے جدید لیبارٹریز کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرو سپیس کنٹرول ماڈلز، اے آئی پر مبنی سمارٹ سٹی سسٹمز اور مقامی ٹیموں کے تیار کردہ سیمی کنڈکٹر ڈیزائن پروجیکٹس کا مشاہدہ کیا۔این ایس ٹی پی کے اندر کام کرنے والی متعدد ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا-
جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان جدت پر مبنی تعاون دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کی نئی جہتوں کو کھول سکتا ہے۔ انہوں نے سفارتی مصروفیات کو ٹھوس صنعتی اور تکنیکی نتائج سے جوڑنے کی اہمیت پر زور دیا۔چام نیمول نے ادارہ جاتی شراکت داری اور علم کے تبادلے کے اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون باہمی اعتماد اور طویل مدتی اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط کرے گا۔ دورے کے دوران دونوں وزراء نے جدت، تحقیقی تعاون اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے پاکستان-کمبوڈیا تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا، جو دو طرفہ اقتصادی سفارتکاری میں بڑھتی ہوئی رفتار کی عکاسی کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔
’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔
اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔
تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو