data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: سندھ بھر میں تعلیمی سرگرمیوں کے نئے شیڈول کی حتمی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے تحت میٹرک کے سالانہ امتحانات 31 مارچ سے جبکہ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات 15 اپریل سے شروع ہوں گے۔ اس اہم فیصلے کی منظوری محکمہ تعلیم سندھ کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی، جو جمعرات کی دوپہر وزیرِ تعلیم سردار علی شاہ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات عید کے بعد 31 مارچ سے لیے جائیں گے جب کہ میٹرک کے اختتام کے تقریباً 15 روز بعد انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات کا آغاز 15 اپریل سے ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی نئے تعلیمی سیشن 2026-27 کو یکم اپریل سے شروع کرنے کی بھی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے تاکہ تعلیمی نظام کو ایک منظم شیڈول کے تحت چلایا جا سکے۔

اسٹیئرنگ کمیٹی نے نتائج کے اجرا کے حوالے سے بھی واضح ٹائم لائن مقرر کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ میٹرک کے امتحانات کے نتائج یکم جون تک جاری کر دیے جائیں گے جبکہ انٹرمیڈیٹ کے نتائج 15 جون تک طلبہ کے سامنے رکھ دیے جائیں گے تاکہ اعلیٰ تعلیم میں داخلوں کے عمل میں تاخیر نہ ہو اور طلبہ کو بروقت رہنمائی میسر آ سکے۔

اجلاس میں یونیفارم ایگزامینیشن سلیبس کے نفاذ پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، جس کے بعد اس پر عمل درآمد کو فی الحال موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

کمیٹی نے طے کیا کہ نویں اور دسویں جماعت میں یہ نیا نصاب آئندہ سال یعنی 2027 کے سالانہ امتحانات سے نافذ کیا جائے گا، تاکہ طلبہ اور اساتذہ کو بہتر تیاری کا موقع مل سکے۔

تعطیلات کے شیڈول پر غور کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ موسمِ گرما کی چھٹیاں بدستور یکم جون سے 31 جولائی تک جبکہ موسمِ سرما کی تعطیلات 22 دسمبر سے 31 دسمبر تک ہی ہوں گی۔

تاہم یہ بھی طے پایا کہ اگر موسم کی شدت کے پیشِ نظر کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوئی تو اپریل میں اسٹیئرنگ کمیٹی کا ایک اور اجلاس بلا کر اس پر نظرِ ثانی کی جا سکتی ہے۔

اجلاس کے دوران جب موسمِ سرما کی تعطیلات میں ممکنہ تبدیلی پر بحث شروع ہوئی تو کیمبرج اسکولوں کے نمائندوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے تعلیمی کیلنڈر کا تعلق عالمی شیڈول سے ہوتا ہے، اس لیے تعطیلات میں رد و بدل ان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ اس نکتے کے سامنے آنے کے بعد اس معاملے پر مزید بحث روک دی گئی۔

واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر میں سردی کی شدت جنوری کے مہینے میں عروج پر ہوتی ہے، جس کے باعث رواں سال تعلیمی اداروں کے اوقات کار میں بھی تبدیلی کرنا پڑی تھی۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے سالانہ امتحانات انٹرمیڈیٹ کے فیصلہ کیا کیا گیا

پڑھیں:

جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت

تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی

جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔

معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا