فارمیسی ایکٹ 1967ء میں مجوزہ ترامیم تیار کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
— فائل فوٹو
وفاقی حکومت نے فارمیسی ایکٹ 1967ء میں مجوزہ ترامیم تیار کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
وفاقی وزیر صحت کا تعلق کراچی سے ہونے کے باوجود کراچی سے کسی بھی ماہر کو کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و ہم آہنگی کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وزارتِ قومی صحت خدمات کے اسپیشل سیکریٹری کریں گے۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ کمیٹی کے دیگر اراکین میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، صدر پاکستان فارمیسی کونسل ڈاکٹر اختر عباس خان (سیکریٹری، پاکستان فارمیسی کونسل) بطور کنوینئر، پروفیسر ظہیر الدین بابر (قطر یونیورسٹی، دوحہ) بطور بین الاقوامی ماہر، محمد ابراہیم (سیکریٹری، پاکستان فارمیسی کونسل خیبرپختونخوا)، پروفیسر توصیف راجپوت (ڈین، شفا تمرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد)، پروفیسر ڈاکٹر توفیق الرحمٰن (چیئرمین، شعبۂ فارمیسی، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد)، پروفیسر ڈاکٹر فرقان کے ہاشمی (جنرل سیکریٹری، پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن) اور عامر لطیف (ڈائریکٹر لیگل افیئرز، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان) شامل ہیں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ڈاکٹرز کو خوشخبری سنا دی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق چیئرمین کو ضرورت پڑنے پر کسی بھی ماہر کو بطور شریک رکن شامل کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کمیٹی کے اغراض و مقاصد میں فارمیسی ایکٹ 1967ء کا جامع جائزہ لے کر اسے موجودہ صحت عامہ کی ضروریات، آئینی تقاضوں اور عالمی بہترین روایات سے ہم آہنگ بنانا شامل ہے تاکہ فارمیسی ریگولیشن، تعلیم اور پیشہ ورانہ عمل کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے اور مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی فارمیسی کونسل آف پاکستان کے انتظامی و احتسابی نظام، 18ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں وفاق اور صوبوں کے کردار، فارمیسی تعلیم و ایکریڈیٹیشن، رجسٹریشن و لائسنسنگ، بین الصوبائی نقل و حرکت، ڈیجیٹل رجسٹرز، لازمی کنٹینیونگ پروفیشنل ڈویلپمنٹ (CPD) اور اخلاقی و تادیبی ضوابط کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نوٹیفکیشن کے اجرا کے تین ماہ کے اندر اپنی حتمی رپورٹ حکومت کو پیش کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فارمیسی کونسل نوٹیفکیشن کے گیا ہے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔