جیکب آباد میں انتہاء پسندی سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ پورے ملک میں کالعدم انتہاء پسند تنظیموں کو حکومت اور ریاستی اداروں نے کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔ کالعدم تنظیموں کی شر انگیزی روکنے کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت اور صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ تشدد پسند انتہاء پسندی کا خاتمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور اس کے لئے محض سکیورٹی اقدامات نہیں بلکہ فکری، سماجی اور اخلاقی اصلاح ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی کمشنر جیکب آباد نواب سمیر حسین لغاری کی زیر صدارت منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ 12 فروری کو منایا جانے والا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انتہاء پسندی کا مقابلہ صرف طاقت سے ممکن نہیں، بلکہ تعلیم، شعور، انصاف اور مکالمے کے فروغ سے پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر حکومت پاکستان کی قومی پالیسی برائے انسداد تشدد پسند انتہاپسندی (NPVE 2024) کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ردعمل کے بجائے روک تھام کی حکمت عملی اپنائی جائے۔

علامہ ڈومکی نے قرآن و سنت کی روشنی میں اعتدال اور رواداری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے سورۃ البقرہ کی آیت "وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا" کا حوالہ دیا اور کہا کہ اسلام امت وسط یعنی اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ انہوں نے سورۃ المائدہ کی آیت "مَن قَتَلَ نَفْسًا.

.." کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہاء پسندی کی بنیادی وجوہات میں معاشی محرومی، ناانصافی، بے روزگاری، غلط معلومات اور فرقہ وارانہ نفرت شامل ہیں۔ ان کے بقول "انتہاء پسندی بندوق سے نہیں، ذہنوں میں پیدا ہوتی ہے۔" لہٰذا نصابِ تعلیم، میڈیا، مذہبی بیانیے اور سماجی اداروں کو مثبت اور متحد پیغام دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی مسجد میں بم دھماکہ شدت پسندی کا بدترین سانحہ ہے۔ اللہ کے گھر میں نمازی بھی اس ملک میں غیر محفوظ ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں اور خواتین کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان مسئلہ نہیں بلکہ حل ہیں، بشرطیکہ انہیں تعلیم، روزگار اور مثبت مواقع فراہم کئے جائیں۔ اسی طرح خواتین کو امن سازی کے عمل میں مؤثر کردار دیا جانا چاہئے۔

انہوں نے اقلیتوں کے تحفظ کو آئینی اور اخلاقی ذمہ داری قرار دیا۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کے 11 اگست 1947 کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مذہبی آزادی اور رواداری کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ یہ مسلکی نہیں بلکہ مسلم پاکستان ہے۔ آج پورے ملک میں کالعدم انتہاء پسند تنظیموں کو حکومت اور ریاستی اداروں نے کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔ یہ کالعدم تنظیمیں ملک بھر شر انگیزی پر مبنی جلسے جلوس کر رہی ہیں۔ کالعدم تنظیموں کی شر انگیزی روکنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر دیگر مقررین نے کہا کہ پالیسی بنانا آسان مگر اس پر خلوصِ نیت سے عملدرآمد اصل امتحان ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ علماء، تعلیمی ادارے، میڈیا، سول سوسائٹی اور ریاستی ادارے مل کر اعتدال، مکالمے اور انصاف کو فروغ دیں تاکہ پاکستان کو امن، اتحاد اور استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے تشدد پسند انتہاء پسندی کے خاتمے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انتہاء پسندی انتہاء پسند علامہ مقصود کرتے ہوئے نے کہا کہ ڈومکی نے پسندی کا انہوں نے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار