مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
انہوں نے 5 اگست 2019ء کے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں کشمیری شناخت کو مٹا نہیں سکتیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔ ذرائع کے مطابق فیصل ممتاز راٹھور نے یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر پاکستان کے کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل عزم کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مسئلہ کشمیر آج بھی حل طلب ہے اور یہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے۔انہوں نے 5 اگست 2019ء کے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں کشمیری شناخت کو مٹا نہیں سکتیں۔ فیصل ممتاز راٹھور نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور اظہارِ رائے پر قدغنیں روزمرہ حقیقت بن چکی ہیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کی اصولی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور آزاد جموں و کشمیر جمہوری طرزِ حکمرانی اور ترقی کی زندہ مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت کے استعمال کا پورا حق حاصل ہے اور تنازعہ کشمیر کا پرامن حل کو فوجی طاقت یا جبر سے نہیں بلکہ انصاف اور بامعنی مکالمے سے ممکن ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تشویش سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے تاکہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچا سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسئلہ کشمیر کشمیری عوام امن کے لیے انہوں نے کشمیر کا کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔