Jasarat News:
2026-07-24@02:24:35 GMT

لاپتا افراد کی بازیابی حکومت کی ذمے داری ہے ‘اسداللہ بھٹو

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260212-08-11
شہدادپور(جسارت نیوز) جماعت اسلامی کے سینئر رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا اسداللہ بھٹو نے کہا ہے کہ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں اور ان پر تشدد جمہوریت کی نفی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ سندھ سمیت ملک بھر میں 10 ہزار سے زاید لاپتا افراد کی بازیابی حکومت کی ذمے داری ہے کیونکہ ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے۔ پہلے سیاست کا مقصد ملک اور عوام کی خدمت تھا، مگر اب کرسی اور مفادات کا حصول مقصد بن چکا ہے، جس کے لیے ایمان اور ضمیر کا سودا کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی زمینوں پر غیر قانونی طور پر قبضہ، کارونجھر پہاڑ کی کٹائی، گوداموں میں گندم چوری اور سندھ اسمبلی میں شراب پر پابندی کی قرارداد کی مخالفت اس کی واضح مثالیں ہیں۔ گزشتہ 18 برس سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، لیکن بدقسمتی سے جدید دور میں بھی سندھ کے عوام صاف پانی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ 80 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ تعلیمی ادارے دیوار، واش روم بجلی پنکھوں تک سے محروم ہیں جو کہ سندھ حکومت کی ناکامی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا ملک کا چوتھا اور اہم ستون ہے جو ایوانوں کو بھی ہلا سکتا ہے۔ سندھ کی بہتری، مظلوم عوام کے حقوق اور حق کی آواز بلند کرنے کے لیے صحافی برادری کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ جماعت اسلامی ‘‘بدل دو نظام کو، سنوار دو سندھ کو ’’ مہم چلا رہی ہے، اور حقیقت بھی یہ ہے کہ نظام اور قیادت کی تبدیلی سے ہی ملک کے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور عوام کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہدادپور پریس کلب میں نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دینے کے بعد ‘‘میٹ دی پریس’’ کے دوران کیا۔ اس موقع پر انہوں نے صدر ارشاد ظفر بخاری، جنرل اور دیگر عہدیداران کو اجرک، پھولوں کے ہار اور دینی کتابیں تحفے میں پیش کیں۔ سیکرٹری اطلاعات سندھ مجاہد چنا، مقامی امیر شوکت کمبوہ، امان اللہ ٹالپر، شفیق الرحمن شیخ، ایاز عمرانی سمیت دیگر مقامی رہنما بھی موجود تھے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی الگ صوبے کے قیام اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی مخالف ہے بااختیا و با وسائل بلدیاتی نظام ہی مسائل کا حل ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اسے حکومتی ناکامی قرار دیا۔ بعد ازاں اسداللہ بھٹو خاصخیلی گاؤں پہنچے اور ضلعی جنرل سیکرٹری ارشد خاصخیلی سے ان کی چچا زاد بہن کے انتقال پر تعزیت کی۔

شہدادپور:جماعت اسلامی کے سینئر رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا اسداللہ بھٹو شہدادپورپریس کلب کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کرنے کے بعد گفتگو کررہے ہیں

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی اسداللہ بھٹو انہوں نے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن