ترکیہ میں وزیرِ انصاف کی تقرری پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی، اراکین کی ایک دوسرے پر لاتوں ،گھونسوں کی بارش
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
ترکیہ میں آکن گرلگ کی بطور وزیرِ انصاف تقرری کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس شدید ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا۔
اپوزیشن جماعتوں نے ان کی نامزدگی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے ایوان میں احتجاج کیا، جس دوران بعض اراکین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی اور ایک دوسرے پر گھونسوں اور لاتوں کی بوچھاڑ کی گئی۔ اپوزیشن اراکین نے آکن گرلگ کو حلف اٹھانے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی تقرری متنازع اور قابلِ اعتراض ہے۔
یاد رہے کہ آکن گرلگ اس سے قبل چیف پراسیکیوٹر کے طور پر اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن کی قیادت کر چکے ہیں، جس کے باعث ان کی بطور وزیرِ انصاف نامزدگی نے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب حکومتی اراکین نے صدر رجب طیب اردوان کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آکن گرلگ نے ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے فرائض انجام دیے ہیں، تاہم اپوزیشن نے اس تقرری کو جمہوری اقدار اور شفافیت کے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل آکن گرلگ
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔