5G اسپیکٹرم کی نیلامی کے بعد بِٹ ایڈجسٹمنٹ کی اجازت نہیں ہوگی، پی ٹی اے
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے واضح کیا ہے کہ 5G اسپیکٹرم کی نیلامی مکمل ہونے کے بعد آپریٹرز اپنے اسپیکٹرم ہولڈنگز میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا لین دین نہیں کرسکتے۔ نیلامی کے نتائج حتمی ہوں گے اور بعد از نیلامی کوئی اضافی ایڈجسٹمنٹ یا ٹریڈنگ کی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومتِ پاکستان نے 5G اسپیکٹرم نیلامی کے لیے بنیادی قیمتوں کی منظوری دے دی
اس فیصلے کے ذریعے وہ تجاویز مسترد کر دی گئی ہیں جن میں آپریٹرز کو نیلامی کے بعد اپنے اسپیکٹرم ہولڈنگز میں لچک دینے کی سہولت فراہم کرنے کا کہا گیا تھا۔ مشاورت کے دوران کچھ اسٹیک ہولڈرز نے خبردار کیا تھا کہ بڈنگ کے دوران طلب میں تبدیلی کی وجہ سے کچھ بڈرز غیر معاشی یا ٹکڑے ٹکڑے اسپیکٹرم ہولڈنگز میں پھنس سکتے ہیں۔
اسٹیک ہولڈرز نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے انہوں نے نیلامی کے بعد یا اسائنمنٹ سے پہلے کسی قسم کی ٹریڈنگ ونڈو یا مشابہہ میکانزم متعارف کرانے کی تجویز دی تھی تاکہ آپریٹرز اپنے اسپیکٹرم پورٹ فولیوز کو بہتر بنا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: 5G اسپیکٹرم نیلامی کی تیاری مکمل، جدید بینڈز پہلی بار دستیاب، وفاقی وزیر آئی ٹی کی پریس کانفرنس
تاہم پی ٹی اے نے واضح کیا کہ ٹریڈنگ ونڈو نیلامی کے فریم ورک کا حصہ نہیں ہے اور شامل نہیں کی جائے گی۔ اتھارٹی نے کہا کہ اسپیکٹرم کی الاٹمنٹ اور اسائنمنٹ کے موجودہ مراحل ہی مؤثر نتائج فراہم کرنے کے لیے کافی ہیں اور کسی اضافی ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت نہیں۔
پی ٹی اے نے واضح کیا کہ اسپیکٹرم کی کیپنگ قواعد پوری نیلامی کے دوران نافذ رہیں گے، چاہے کچھ اسپیکٹرم لیٹس فروخت نہ ہوں۔ موجودہ کیپ، جو کہ انٹرنیشنل موبائل ٹیلی کمیونیکیشنز (IMT) اسپیکٹرم کے لیے 348.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
5Gاسپیکٹرم we news بٹ ایڈجسٹمنٹ پی ٹی اے نیلامی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 5Gاسپیکٹرم بٹ ایڈجسٹمنٹ پی ٹی اے نیلامی اسپیکٹرم کی نیلامی کے کے دوران پی ٹی اے کے بعد کے لیے
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔