WE News:
2026-06-02@22:10:08 GMT

پی ایس ایل آکشن مکمل ہونے کے بعد تمام 8 ٹیموں پر ایک نظر

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

پاکستان سپر لیگ یعنی پی ایس ایل کی تاریخ کی سب سے زیادہ متوقع پلیئرز آکشن کے بعد آٹھوں فرنچائزز نے لیگ کے 11ویں ایڈیشن کے لیے اپنے اسکواڈز کو حتمی شکل دے دی ہے۔

پی ایس ایل کا نیا سیزن 26 مارچ سے 3 مئی تک کھیلا جائے گا۔

یہ پی ایس ایل کی تاریخ کی پہلی باقاعدہ نیلامی تھی جس نے 2016 میں لیگ کے آغاز سے جاری ڈرافٹ سسٹم کی جگہ لی۔

پلیئرز کے انتخاب کے ماڈل میں یہ بڑی تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب لیگ میں سیالکوٹ اسٹیلیئنز اور حیدرآباد ہیوسٹن کنگزمین دو نئی ٹیموں کا اضافہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

توسیع کے باعث پرانی 6 فرنچائزز کو صرف 4 کھلاڑی برقرار رکھنے کی اجازت تھی، جس نے انتخابی عمل کو مزید سنسنی خیز بنا دیا۔

تین بار کی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ نے جارحانہ انداز میں نیلامی کا آغاز کیا اور آل راؤنڈر فہیم اشرف کو 8 کروڑ 50 لاکھ روپے میں حاصل کیا۔

یونائیٹڈ نے مارک چیپمین، محمد وسیم جونیئر اور میکس برائنٹ کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا، جبکہ عماد وسیم، رچرڈ گلیسن، شمرجوزف اور حیدر علی کی شمولیت سے بولنگ اور مڈل آرڈر کو مضبوط بنایا۔

کراچی کنگز نے بھی بڑی بولی لگا کر ڈیوڈ وارنر کو 7 کروڑ 90 لاکھ روپے میں حاصل کیا، جو نیلامی کی نمایاں ڈیلز میں شامل رہی۔

مزید پڑھیں:

سلمان علی آغا، ایڈم زمپا، اعظم خان، جانسن چارلس اور میر حمزہ کی شمولیت سے کراچی نے متوازن کمبی نیشن ترتیب دیا۔

لاہور قلندرز نے اپنے کور کھلاڑیوں پر اعتماد برقرار رکھتے ہوئے حارث رؤف کو 7 کروڑ 60 لاکھ اور فخر زمان کو 7 کروڑ 95 لاکھ روپے میں دوبارہ حاصل کیا۔

اسامہ میر، عبید شاہ، داسن شناکا اور گڈاکیش موتی کی آمد سے ٹیم کو مزید تقویت ملی۔

راولپنڈی فرنچائز نے نیلامی کی سب سے بڑی بولی لگاتے ہوئے نسیم شاہ کو 8 کروڑ 65 لاکھ روپے میں خریدا، جبکہ ڈیرل مچل 8 کروڑ 5 لاکھ روپے میں ٹیم کا حصہ بنے۔

مزید پڑھیں:

محمد عامر، رشاد حسین اور آصف آفریدی کی شمولیت سے راولپنڈی نے مضبوط بولنگ لائن اپ ترتیب دی۔

پشاور زلمی نے مائیکل بریسویل اور کوسل مینڈس کو 4 کروڑ 20 لاکھ روپے فی کس میں حاصل کیا۔

جیمز ونس اور محمد حارث کی شمولیت سے بیٹنگ مضبوط کی گئی، جبکہ عامر جمال اور خرم شہزاد کو پیس اٹیک کے لیے منتخب کیا گیا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے نوجوان اور غیر ملکی ٹیلنٹ پر سرمایہ کاری کرتے ہوئے رائلی روسو کو 5 کروڑ 55 لاکھ اور ٹام کرن کو 4 کروڑ 20 لاکھ روپے میں حاصل کیا۔

مزید پڑھیں:

خواجہ محمد نفے 6 کروڑ 50 لاکھ روپے میں نمایاں خریداری رہے، جبکہ جہانداد خان، عرفات منہاس اور فیصل اکرم بھی اسکواڈ کا حصہ بنے۔

نئی فرنچائز حیدرآباد ہیوسٹن کنگزمین نے اپنے پہلے ہی سیزن کے لیے مضبوط ٹیم ترتیب دی، جس میں ریلی میریڈتھ (4 کروڑ 20 لاکھ) اور کوسل پریرا (3 کروڑ 10 لاکھ) نمایاں رہے۔

صائم ایوب 12 کروڑ 60 لاکھ روپے کے ساتھ ان کی سب سے بڑی خریداری ثابت ہوئے، محمد علی، محمد عرفان خان، حسن خان اور شرجیل خان بھی اسکواڈ میں شامل کیے گئے۔

سیالکوٹ اسٹیلیئنز کی نیلامی کا مرکز صاحبزادہ فرحان رہے، جنہیں 5 کروڑ 70 لاکھ روپے میں خریدا گیا۔

مزید پڑھیں:

ایشٹن ٹرنر اور جوش فلپ کی شمولیت سے بیٹنگ لائن کو تقویت دی گئی، جبکہ تبریز شمسی اور پیٹر سڈل بولنگ اٹیک کی قیادت کریں گے۔

پی ایس ایل کی اس تاریخی نیلامی نے نہ صرف لیگ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کی بلکہ آئندہ سیزن کے لیے سخت اور دلچسپ مقابلوں کی بنیاد بھی رکھ دی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آکشن پی ایس ایل ڈرافٹ سسٹم صاحبزادہ فرحان کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نیلامی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ایس ایل ڈرافٹ سسٹم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نیلامی لاکھ روپے میں میں حاصل کیا کی شمولیت سے مزید پڑھیں پی ایس ایل کے لیے

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا