نیپرا نے 300 یونٹ ماہانہ تک کے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز لگادیے
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نیپرا نے 300 یونٹ ماہانہ تک کے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز لگادیے،پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ صارفین دونوں پر شکنجہ کس دیا گیا،700 یونٹ سے زاید استعمال پر فکسڈ چارجز میں 325 روپے کمی کر دی گئی جبکہ وزیراعظم نے نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجرا کا نوٹس لے لیا، شہباز شریف نے پاورڈویژن نیپرا کو سولرصارفین کے تحفظ سے متعلق نظرثانی اپیل دائرکرنے کی ہدایت کردی۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 300 یونٹ ماہانہ تک کے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز لگادیے۔ نیپرا نے فکسڈ چارجز کے حوالے سے پاور ڈویژن کی درخواست پر فیصلہ جاری کردیا۔ فکسڈ چارجز پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ صارفین پر لگائے گئے ہیں، اس سے پہلے صرف 300 یونٹ سے زاید استعمال کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر فکسڈ چارجز عاید تھے۔ نیپرا فیصلے کے مطابق ماہانہ 100یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین پر 200 روپے فکسڈ چارجز عاید کیے گئے ہیں۔ ماہانہ 200 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈگھریلو صارفین پر 300 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز عایدکیے گئے ہیں۔ 100یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 275 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز عاید کیے گئے ہیں۔ماہانہ 200 یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 300 روپے فکسڈ چارجز عاید کیے گئے ہیں۔ ماہانہ 300 یونٹ تک استعمال کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 350 روپے فکسڈ چارجز عاید کیے گئے ہیں۔ نیپرا فیصلے کے مطابق ماہانہ 301 سے 400 یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر فسکڈ چارجز 200 روپے اضافے سے 400 روپے کردیے گئے ہیں۔ ماہانہ 401 سے 500 یونٹ استعمال کے نان پروٹیکٹد صارفین پر 100 روپے اضافے سے فکسڈ چارجز 500 روپے مقررکیے گئے ہیں۔ ماہانہ 600 یونٹ استعمال پر فکسڈ چارجز 75 روپے اضافے سے 675 روپے کردیے گئے۔ ماہانہ 700 یونٹ تک استعمال پر فکسڈ چارجز 125 روپے کمی سے 675 روپے مقررکیے گئے ہیں۔ماہانہ 700 یونٹ سے زاید بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز میں 325 روپے کمی سے 675 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے نیپرا کی جانب سے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجرا کا فوری نوٹس لے لیا۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت نیپرا کے نئے ریگولیشنز کے اجرا پر اعلیٰ سطح کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، عطا تارڑ، اویس لغاری، پرویز ملک، بلال کیانی، محمد علی اور احد چیمہ سمیت دیگر نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے نیپرا کی جانب سے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجرا کا فوری نوٹس لے لیا ہے۔ شہباز شریف نے پاورڈویژن نیپرا کو سولرصارفین کے کانٹریکٹ کے تحفظ سے متعلق نظرثانی اپیل دائرکرنے اور موجودہ کانٹریکٹس کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنائے جانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سولر والے 4 لاکھ 66 ہزارصارفین کا بوجھ 3کروڑ 76 لاکھ نیشنل گرڈ بجلی صارفین پر نہ پڑے۔ وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو اس سے متعلق جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر نئے ریگولیشنز کے اجرا استعمال پر فکسڈ چارجز یونٹ تک
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔