سولر صارفین کے کنٹریکٹس کا تحفظ یقینی بنایا جائے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیراعظم نے نیپرا کی جانب سے سولر کے نئے ریگولیشنز کے اجراء پر فوری نوٹس لے لیا۔
وزیراعظم کی زیرصدارت نیپرا کے نئے قواعد و ضوابط سے متعلق اجلاس ہوا،جس میں سولر صارفین کے حقوق اور صارفین کے بوجھ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔نئی سولر پالیسی کا اطلاق کن صارفین پر ہوگا؟ وزیر توانائی نے واضح کردیا۔ شہبازشریف نے ہدایت کی کہ پاور ڈویژن سولر صارفین کے معاہدوں کے تحفظ کیلئے نیپرا میں نظرثانی اپیل دائر کرے،سولر صارفین کے کنٹریکٹس کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے۔سولر سے مستفید 4 لاکھ 66 ہزار صارفین کا بوجھ عام بجلی صارفین پر نہ پڑے،وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو نیشنل گرڈ استعمال کرنے والےصارفین کیلئے پلان تیار کرنے کی ہدایت کردی۔
بلنگ کا نیا نظام کیا ہے؟ سولر پینل صارفین کے لیے بڑی تبدیلی کر دی گئی، بلنگ کا نیا نظام نافذ کر دیا گیا۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ کے پرانے نظام کو ختم کر کے نیٹ بلنگ کا نیا قانون نافذ کر دیا ہے۔نیپرا نے اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، اس نئے نظامکا مقصد بجلی کی خرید و فروخت کے طریقہ کار کو جدید بنانا ہے۔نئے قانون کا اطلاق نہ صرف گھریلو، صنعتی صارفین پر ہوگا بلکہ بائیو گیس، ونڈ اور دیگر صاف ذرائع سے بجلی پیدا کرنے والے افراد پر بھی اس کا اطلاق ہو گا۔ اگر ان کی پیداوار کی صلاحیت ایک میگاواٹ تک ہو۔
ایسے صارفین کو پروسیومر کہا جائے گا یعنی وہ خود بجلی استعمال بھی کریں گے اور اضافی بجلی قومی گرڈ کو بھی فراہم کریں گے، اب صارفین سے اضافی بجلی 27 روپے کے بجائے موجودہ نیشنل ایوریج ٹیرف یعنی بجلی کی اوسط قیمت پر خریدی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سولر صارفین کے
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔