پاور سیکٹر میں انقلابی اصلاحات، مہنگی بجلی پر انحصار کم کیا، 17 ارب ڈالر بچائے: اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر برائے توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت نے پاور سیکٹر میں ایسی تاریخی اور جرات مندانہ اصلاحات کی ہیں جن کی نہ صرف عالمی مالیاتی ادارے بلکہ دنیا بھر کے ماہرین تعریف کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں پیدا ہونے والی تقریباً 20 فیصد بجلی مہنگے درآمدی ایندھن سے بنتی ہے تاہم حکومت کی موثر پالیسیوں کے باعث اس انحصار میں نمایاں کمی لائی جا رہی ہے۔ منگل کو سینٹ کے اجلاس میں نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ حکومت نے سب سے پہلے آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کے معاہدوں پر نظرثانی کی۔ دبائو اور سفارش کو خاطر میں لائے بغیر قومی مفاد میں فیصلے کیے اور بڑے مالی فوائد حاصل کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں آئندہ چھ سے سات برسوں میں 3400 ارب روپے کا اضافی بوجھ ختم کیا گیا جو بصورت دیگر آئی پی پیز کو ادا ہونا تھا۔ حکومت نے 10 ہزار میگاواٹ مہنگی بجلی سسٹم میں شامل ہونے سے روک کر اگلے 20 سال میں 17 ارب امریکی ڈالر کے اضافی بوجھ سے قوم کو بچایا۔ اسی طرح تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی کارکردگی بہتر بنا کر ایک سال کے اندر 586 ارب روپے کے سالانہ بوجھ کو کم کر کے 397 ارب روپے تک لایا گیا جبکہ آئندہ تین سال میں لائن لاسز اور ریکوری کے مسائل مکمل طور پر ختم کرنے کا ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے نرخوں پر نیٹ میٹرنگ کے باعث باقی غریب صارفین پر سالانہ 200 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑ رہا تھا جو مستقبل میں بڑھ کر 500 ارب روپے تک جا سکتا تھا۔ نئی ریگولیشنز کا مقصد غریب عوام کو تحفظ دینا ہے۔ نیپرا کی جانب سے طے کردہ نئے نرخوں پر بھی نیٹ میٹرنگ ایک منافع بخش سرمایہ کاری رہے گی اور صارفین تین سے ساڑھے تین سال میں اپنی لاگت پوری کر سکتے ہیں جو بینکوں کے منافع سے کہیں زیادہ ہے۔ حکومت نے 8 ہزار میگاواٹ تک سولر انرجی کو نیٹ میٹرنگ کے ذریعے سسٹم میں شامل کرنے کی گنجائش رکھی ہے اور یقین دلایا کہ نئی ریگولیشنز کے باوجود سولر انرجی میں اضافہ جاری رہے گا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں تقریباً 20 روپے فی یونٹ کمی کی ہے جبکہ 200 یونٹ تک استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو 40 فیصد اضافی رعایت دی گئی ہے۔ یہ اصلاحات سرمایہ کار دوست، قابل تجدید توانائی کے فروغ اور عام آدمی کے مفاد میں ہیں۔ آخر میں اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ حکومت کو ان اصلاحات پر فخر ہے کیونکہ ان فیصلوں کے ذریعے قومی وسائل کا تحفظ، بجلی کی قیمتوں میں استحکام اور غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ ارب روپے کہ حکومت حکومت نے نے کہا
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔