وفاق اور خیبرپختونخوا ایک پیج پر، ملاکنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
وفاق اور خیبرپختونخوا ایک پیج پر، ملاکنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو دینے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 February, 2026 سب نیوز
پشاور (آئی پی ایس )خیبرپختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن میں امن و امان کے حوالیسے فوج کو دی گئیں ذمہ داریاں پولیس، سی ٹی ڈی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔خیبر پختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورت حال پر غور کے لیے ایک اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی حکومت کے نمائندوں اور سینئر سول و عسکری قیادت نے شرکت کی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان، مشیر خزانہ مزمل اسلم اور وزیر قانون آفتاب عالم نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ اجلاس میں معیشت اور لا اینڈ آرڈر سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے، متاثرہ علاقوں میں امن و امان بہتر ہوتے ہی سروسز سول انتظامیہ کے حوالے کی جائیں گی، ملاکنڈ میں اختیارات پولیس، سی ٹی ڈی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیے جارہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دوسرے اضلاع میں جہاں دہشت گردی کے خلاف آپریشن جاری ہے وہاں حالات بہتر ہونے کے بعد اختیارات پولیس کے حوالے کردیے جائیں گے۔
مشیر خزانہ مزمل اسلم نے بتایا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا کے مالی مسائل تفصیل سے زیر بحث آئے، وزیر اعظم کے سامنے صوبے کو درپیش مالی مشکلات اور مالی ایشوز دوبارہ تفصیل سے رکھے گئے۔انہوں نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا کو این ایف سی کا واجب الادا حصہ مل جائے تو کئی بڑے مالی مسائل حل ہو سکتے ہیں، کم وفاقی فنڈز کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت ضم اضلاع میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے، ضم اضلاع کے لیے موجودہ مالی وسائل ناکافی ہیں، آئندہ مالی مسائل کے حل کے لیے تجاویز دی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ صوبے کی سفارشات وفاقی حکومت کے سامنے رکھی جائیں گی، وفاق کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا کے لیے زیادہ سے زیادہ مالی ریلیف دلایا جائے گا۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ آپریشنز کے باعث مارکیٹ بندش سے متاثرہ علاقوں کے روزگار پر بھی بات ہوئی، متاثرہ علاقوں میں تجارت کے متبادل انتظامات اور روزگار کے مواقع پر یقین دہانی کرائی گئی، وفاق اور صوبہ مل کر متاثرہ علاقوں کے مالی نقصانات کا ازالہ کریں گے۔
وزیر قانون آفتاب عالم نے بتایا کہ اجلاس میں امن و امان سے متعلق اہم اور تاریخی فیصلے کیے گئے، وزیراعلی خیبر پختونخوا کی شرکت میں اجلاس میں اہم فیصلوں پر اتفاق ہوا، ملاکنڈ ڈویژن میں پاک فوج اپنی ذمہ داریاں صوبائی پولیس، سی ٹی ڈی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ امن کی بحالی صوبائی حکومت، سول انتظامیہ اور عسکری قیادت کی بڑی کامیابی ہے، یہ فیصلہ خیبر پختونخوا پولیس پر اعتماد کے اظہار کا واضح ثبوت ہے، تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اسٹیک ہولڈرز اور قبائلی مشران کا اجلاس بلا کر انہیں اعتماد میں لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سول اور عسکری قیادت سیاسی و مذہبی اسٹیک ہولڈرز اور قبائلی مشران کی سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنائے گی، صوبائی ایپکس کمیٹی میں طے پانے والے فیصلوں کو نیشنل ایپکس کمیٹی سے قبل یقینی بنایا جائے گا اور نیشنل ایپکس کمیٹی میں صوبائی فیصلوں کی توثیق کی جائے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی گورنر ہاس پشاور میں ملاقات ہوئی جس میں صوبے میں امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں پی ایس ایل میچز کرانے کے پاکستان کرکٹ بورڈ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔ پشاور میں پی ایس ایل کرکٹ میچز کرانے کیلئے بحثیت گورنر متعدد بار پی سی بی سے معاملہ اٹھا چکا ہوں، صوبے میں کھیلوں کے فروغ کے لییرواں سال پی ایس ایل میچز کرانے کا فیصلہ ایک بہترین اقدام ثابت ہوگا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں اور عوام کو کھیلوں اور روزگار کے مواقع فراہم کریں گے، وفاق اور صوبائی حکومتیں مل کر صوبہ میں پائیدار امن کا قیام اور دہشت گردی کا خاتمہ یقینی بنائیں گے۔گورنر خیبرپختونخوا نے وزیر داخلہ سے اسلام آباد امام بارگاہ دھماکے پر بھی اظہار افسوس کیا، گورنر خیبرپختونخوا کا وفاقی وزیر داخلہ سے دھماکا شہدا کے خاندانوں کو مالی امداد کی جلد فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔ گورنر خیبرپختونخوا نے خودکش حملہ آور کو روکنے والے شہید سید عون عباس کو صدارتی ایوارڈ ستارہ شجاعت دینے کی بھی سفارش کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان میں جاپان کے سفیر کی میزبانی میں جاپان پاکستان بزنس سیمینار 2026 منعقد پاکستان میں جاپان کے سفیر کی میزبانی میں جاپان پاکستان بزنس سیمینار 2026 منعقد سینٹ قائمہ کمیٹی سے کتابوں پر پلاسٹک کور کی ممانعت کا بل سینیٹ سے منظور کر لیا گیا چیف آفیسرایم سی آئی ڈاکٹر انعم فاطمہ کا یونین کونسل لوئی بیر بازار کا دورہ،صفائی، پارکنگ اور عوامی سہولیات کا جائزہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے جنوری میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ٹرمپ سے ایفائے عہد؛ انڈونیشیا کی 8 ہزار فوجی اہلکاروں کو غزہ بھیجنے کی تیاری سپریم کورٹ کے حکم پر فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر کی عمران خان سے طویل ملاقات
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: گورنر خیبرپختونخوا وفاقی وزیر داخلہ خیبر پختونخوا متاثرہ علاقوں صوبائی حکومت کہ اجلاس میں پختونخوا کے نے بتایا کہ ذمہ داریاں گورنر خیبر اور صوبائی میں جاپان کے حوالے وفاق اور کا فیصلہ کے لیے پی ایس
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔