مسئلہ یہ ہے ایک ادارہ جس کا سیاست میں کام نہیں، وہ سیاست کرتا ہے، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان میں یہ مسئلہ ہے کہ یہاں ایک ادارہ تمام اداروں میں ٹانگ اڑاتا ہے اور ایک ادارہ جس کا سیاست میں کام نہیں ہے وہ سیاست بھی کرتا ہے جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں سیاسی عدم استحکام ہے۔
پشاور میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی سالانہ کانووکیشن 2026 کی تقریب منعقد ہوئی جس میں تعلیمی سال 2025 کے دوران فارغ التحصیل ہونے والے 620 طلباء و طالبات کو بی ایس سی، ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں دی گئیں۔
کانووکیشن میں 537 بی ایس سی، 38 ایم ایس سی اور 4 پی ایچ ڈی کی ڈگریاں دی گئیں جبکہ مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 22 طلباء و طالبات کو گولڈ میڈلز سے نوازا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کامیاب طلباء و طالبات اور ان کے والدین کو مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ پرانے کورسز بے روزگاروں کی فوج پیدا کر رہے تھے تاہم اب جدید سائنسی کورسز اور نئے مضامین متعارف کرانے سے طلباء کو فارغ التحصیل ہونے سے پہلے ہی نوکریاں مل رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں لیکن مواقع کم رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا بدامنی کا شکار رہا اور صوبے کو ہمیشہ تجربہ گاہ بنایا گیا جس سے نوجوان متاثر ہوئے، تاہم اب ایسا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اپیکس کمیٹی اور وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ سیکیورٹی کے حوالے سے ملاقاتیں ہوئی ہیں اور امن و امان کے قیام کیلئے اہم اجلاس منعقد ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر.
ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کے لیے اور انکی حقوق کے.لیپے ہر شخص کے ساتھ بیتونگا.
امن ہوگا تو خوشحالی آئیگی ، خوشحال ترقی یہہان آئے گی، ہم ڈرنے والے نہیں، سول انجنئرنگ کے ادارے کو الیکٹریکل ادارے میں کام نہیں کرنا چاہیے.
سہیل آفریدی نے کہا کہ بند کمروں میں عمران خان کی حکومت کو گرایا گیا، باہر کے ممالک میں نوجوان جارہے ہیں صرف پٹواری یہہاں رہنگے، مہنگائی زیادہ 45 فیصد عوام پس چکی ہیں، 5300 ارب روپے کی کرپشن کی گئی ہے آئی ایم آف نے کہا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ غریب عوام کے ٹیکس کے پیسوں کو کرپشن کی گئی، زبردستی انخلا پر سب خاموش، میڈیا کرپشن پرخاموش، آواز نہیں اتھائنگے تو جنازے اٹھائنگے . جنازوں سے تک گئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم علم بغاوت اٹھائنگے، میں اپ کی حقوق کے لیے چٹان کی طرح کھڑا ہوں، جو لوگ عوام کے پیسوں سے جزیرے خرید رہے ہیں ان کےخلاف بغاوت کریں گے،وفاق نے صوبے کے جو بقایاجات روکے ہیں میں آپ کی مدد سے لیکر رہوں گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا وزیر اعلی رہے ہیں ایس سی
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔