پشاور:خیبرپختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے بعد پاک فوج کو دی گئی سیکیورٹی ذمہ داریاں مرحلہ وار صوبائی پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دیگر صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس اہم فیصلے کا اعلان خیبرپختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر غور کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے بعد کیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی حکومت کے نمائندوں کے علاوہ سینئر سول و عسکری قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے میں سیکیورٹی، معیشت، دہشت گردی کے خلاف آپریشنز اور متاثرہ علاقوں کی بحالی سے متعلق تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس کے بعد معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان، مشیر خزانہ مزمل اسلم اور وزیر قانون آفتاب عالم نے مشترکہ طور پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے پر اختیارات پولیس، سی ٹی ڈی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ دیگر اضلاع جہاں دہشت گردی کے خلاف آپریشنز جاری ہیں، وہاں بھی حالات معمول پر آتے ہی سیکیورٹی ذمہ داریاں سول انتظامیہ کے حوالے کر دی جائیں گی۔

مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اجلاس میں صوبے کو درپیش مالی مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے مالی معاملات وزیراعظم کے سامنے دوبارہ تفصیل سے رکھے گئے ہیں، اگر صوبے کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت اس کا مکمل اور واجب الادا حصہ مل جائے تو کئی بڑے مالی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ کم وفاقی فنڈز کے باوجود صوبائی حکومت ضم اضلاع میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے، موجودہ مالی وسائل ناکافی ہیں، جس کے پیش نظر آئندہ کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں، دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے باعث مارکیٹ بندش سے متاثر ہونے والے علاقوں کے روزگار پر بھی غور کیا گیا ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں متبادل روزگار کے مواقع اور مالی نقصانات کے ازالے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ اجلاس میں امن و امان سے متعلق تاریخی نوعیت کے فیصلے کیے گئے ہیں، ملاکنڈ ڈویژن میں پاک فوج کا ذمہ داریاں صوبائی اداروں کے حوالے کرنا خیبرپختونخوا پولیس پر اعتماد کا واضح اظہار ہے، امن کی بحالی صوبائی حکومت، سول انتظامیہ اور عسکری قیادت کی مشترکہ کامیابی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، اسٹیک ہولڈرز اور قبائلی مشران کو اعتماد میں لینے کے لیے اجلاس بلایا جائے گا جبکہ صوبائی ایپکس کمیٹی میں کیے گئے فیصلوں کی نیشنل ایپکس کمیٹی میں بھی توثیق کرائی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ملاکنڈ ڈویژن میں میں امن و امان کی ذمہ داریاں اجلاس میں

پڑھیں:

سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری

بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
 سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
 سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش