چھالیہ کی زیادہ مقدار دل اور میٹابولزم کے لیے خطرناک، ماہرین نے خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جنوبی ایشیا میں چھالیہ یا بیٹل نٹ چبانے کی روایت صدیوں پرانی ہے، جسے عام طور پر پان کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے اور کھانے کے بعد مہمانوں کو پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم تازہ ترین سائنسی تحقیقات بتاتی ہیں کہ یہ محض ایک ثقافتی یا سماجی عادت نہیں بلکہ صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق باقاعدگی سے چھالیہ چبانے والے افراد میں دل کی بیماری، مختلف اقسام کے کینسر، اور میٹابولک مسائل کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔ تحقیق کے نتائج یہ بھی بتاتے ہیں کہ چھالیہ کے استعمال اور منہ کے کینسر کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ عادت صحت کے لیے خطرناک حد تک نقصان دہ ہے۔
خصوصاً پان یا چھالیہ کے باقاعدہ استعمال کا تعلق میٹابولک سنڈروم سے پایا گیا ہے، جو مختلف صحت کے مسائل کا مجموعہ ہے اور دل کے دورے یا فالج کے خطرات کو بڑھاتا ہے، مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد روزانہ چھالیہ چباتے ہیں، ان میں موٹاپا، ہائی بلڈ شوگر، غیر معمولی چکنائی اور انسولین ریزسٹنس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق چھالیہ استعمال کرنے والوں میں میٹابولک سنڈروم کا خطرہ 1.
سائنسدانوں کے مطابق اس لت کی وجہ جزوی طور پر دماغی نظام میں چھپی ہے۔ بیٹل نٹ میں موجود فعال مرکبات، جیسے ایروکلین، دماغ میں ایسے ریسیپٹرز کو متاثر کرتے ہیں جو کیفین یا نکوٹین کی طرح خوشی اور محرک اثرات پیدا کرتے ہیں۔ یہ مرکبات ڈوپامائن کے راستوں کو فعال کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے صارف بار بار چھالیہ چباتا ہے اور اسے ترک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مزید برآں، ثقافتی، سماجی اور پیشہ ورانہ عوامل اس عادت کو مزید پختہ کر دیتے ہیں، اور یہ دیگر نشہ آور مادوں کی طرح لت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹرز اور صحت کے ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ چھالیہ چبانے کی عادت کو معاشرتی طور پر معمول سمجھنا خطرناک ہے، کیونکہ یہ نہ صرف منہ کے کینسر بلکہ دل کی بیماری، میٹابولک سنڈروم اور جسمانی سوزش کے خطرات بھی بڑھا دیتی ہے۔ اس کے سدباب کے لیے کمیونٹی سپورٹ، تعلیم، باقاعدہ صحت کی جانچ اور پروگرامز کے ذریعے لوگوں کو اس عادت سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ سپاری چبانا ایک روایتی اور ثقافتی عمل ہے، لیکن اس کے نتیجے میں جسمانی اور دماغی نظام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بیٹل نٹ کے فعال مرکبات دل کی صحت کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ انسولین ریزسٹنس اور دیگر میٹابولک خطرات کو بھی بڑھاتے ہیں۔ ابتدائی روک تھام، جیسے چھالیہ ترک کرنا، صحت کی باقاعدہ جانچ، اور کمیونٹی سطح پر شعور اجاگر کرنا، اس سنگین مسئلے سے بچاؤ کے لیے ناگزیر ہیں۔
یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ روایتی اور ثقافتی عادات بھی خطرناک نتائج کا سبب بن سکتی ہیں، خاص طور پر اگر وہ نشہ آور یا کینسر پیدا کرنے والے مادوں سے جڑی ہوں، اور ان سے ہونے والے نقصان کو نظرانداز کرنا انسانی صحت کے لیے سنگین نتائج لا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جاتا ہے صحت کے کے لیے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔