استنبول (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے او آئی سی ٹرانسپورٹ وزراء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترکیہ کی مثالی ترقی اور صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت کو سراہا اور کہا کہ زمینی رابطے اب محض انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہیں، اقتصادی اور ڈیجیٹل رابطہ خوشحالی اور استحکام کا بنیادی محرک ہے۔

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ پاکستان جنوبی اور وسطی ایشیا کے سنگم پر علاقائی تجارت کا قدرتی” گیٹ وے” ہے، سی پیک ٹو کے تحت او آئی سی ممالک کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، وسط ایشیاء کا پاکستانی بندرگاہوں سے منسلک ہونا ٹریڈ اور ٹرانزٹ میں اضافے کا باعث ہوگا، گوادر پورٹ وسطی ایشیائی ریاستوں کو گرم پانیوں تک مختصر ترین بحری راستہ فراہم کرتا ہے۔

عبدالعلیم خان نے کہا کہ پاکستان،چین،کرغزستان اور قازقستان کا چہار ملکی اشتراک اہمیت کا حامل ہے، پاکستان او آئی سی ممالک کو گوادر پورٹ کے ذریعے تجارتی سہولیات فراہم کرنے کو تیار ہے۔

وفاقی وزیر مواصلات نے بین الاقوامی ٹرانزٹ معیارات اور ڈیجیٹل ٹریڈ پلیٹ فارمز پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹی آئی آر آپریشنز میں گزشتہ سال کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

ترک وزیر ٹرانسپورٹ نے پاکستان سے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی شرکت کا خیر مقدم کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کہا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ