پی ایس کیو سی اے اورکنٹرولر جنرل آف اکاونٹس کے درمیان مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کیلئے ایم او یو پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
پی ایس کیو سی اے اورکنٹرولر جنرل آف اکاونٹس کے درمیان مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کیلئے ایم او یو پر دستخط WhatsAppFacebookTwitter 0 12 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے )اورکنٹرولر جنرل آف اکاونٹس کے درمیان مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کردیئے گئے۔ پی ایس کیو سی اے اس نظام کے لیے ضروری ہارڈویئر اور محفوظ نیٹ ورک انفراسٹرکچر کی خریداری اور تنصیب کی نگرانی کرے گا۔ ڈائریکٹر جنرل پی ایس کیو سی اے ڈاکٹر سیدہ ضیا بتول کاکہناہے یہ شراکت داری محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک بنیادی اصلاح ہے جس کے ذریعے دستی طریقہ کار کا خاتمہ، صوابدیدی عمل میں کمی اور حقیقی وقت میں جوابدہی کو یقینی بنایا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق کنٹرولر جنرل آف اکاونٹس اور پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے )کے مابین مالیاتی نظام کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کر دیے گئے۔
یہ معاہدہ پی ایس کیو سی اے میں فنانشل اکانٹنگ اینڈ بجٹنگ سسٹم کے باضابطہ نفاذ کا آغاز ہے، جو ادارہ جاتی جدت اور مالیاتی اصلاحات کی جانب ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ اقدام ڈائریکٹر جنرل پی ایس کیو سی اے ڈاکٹر سیدہ ضیا بتول کی قیادت میں جاری اصلاحاتی ایجنڈے کا مرکزی حصہ ہے، جو وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی کے وژن کے مطابق گورننس کو مضبوط بنانے، مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے اور مکمل ڈیجیٹلائزیشن و شفافیت کے ذریعے عوامی اعتماد کو فروغ دینے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔مفاہمت کی یادداشت پر کنٹرولر جنرل آف اکاونٹس کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل (مینجمنٹ انفارمیشن سسٹمز)عبدالباسط جسرا اور پی ایس کیو سی اے کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سیدہ ضیا بتول نے دستخط کیے۔ اس موقع پر وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے سیکرٹری شاہد اقبال بلوچ بھی موجود تھے،جنہوں نے اس اقدام کو پی ایس کیو سی اے میں مالیاتی شفافیت، جوابدہی اور ادارہ جاتی کارکردگی کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔معاہدے کے تحت کنٹرولر جنرل آف اکاونٹس اپنے ڈائریکٹوریٹ جنرل (مینجمنٹ انفارمیشن سسٹمز)کے ذریعے پی ایس کیو سی اے کے کراچی میں واقع ہیڈکوارٹرز اور ملک بھر کے علاقائی دفاتر میں ایف اے بی ایس کے نفاذ کے لیے مکمل تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔
معاہدہ کے تحت تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کو ڈیجیٹل اور منظم بنانے کے لیے سافٹ ویئر کے مفت لائسنس فراہم کیے جائیں گے،موثر نفاذ کے لیے ماہر ایس اے پی پروفیشنلز کی خدمات حاصل کی جائیں گی اور پی ایس کیو سی اے کے عملے کو باقاعدہ تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ طویل مدت میں نظام کو خود مختار طور پر چلانے اور برقرار رکھنے کے قابل ہو سکیں۔معاہدہ کے تحت سسٹم میں نیشنل چارٹ آف اکانٹس کو اپنایا جائے گا، جس سے معیاری، شفاف اور آڈٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ مالیاتی رپورٹنگ یقینی بنائی جا سکے گی۔ مزید برآں اس معاہدہ کے مطابق پی ایس کیو سی اے اس نظام کے لیے ضروری ہارڈویئر اور محفوظ نیٹ ورک انفراسٹرکچر کی خریداری اور تنصیب کی نگرانی کرے گا۔ اس موقع پر ڈاکٹر سیدہ ضیا بتول نے کہا کہ یہ شراکت داری محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک بنیادی اصلاح ہے جس کے ذریعے دستی طریقہ کار کا خاتمہ، صوابدیدی عمل میں کمی اور حقیقی وقت میں جوابدہی کو یقینی بنایا جائے گا۔یہ معاہدہ حکومت کے “ڈیجیٹل پاکستان” وژن کی عکاسی اور اس امر کا ثبوت ہے کہ پی ایس کیو سی اے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر سروسز کی فراہمی، آپریشنل کارکردگی اور عوامی اعتماد کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرازبکستان کے سفیر نے صدر ازبکستان کے دورہ پاکستان کو تاریخی قرار دیدیا ازبکستان کے سفیر نے صدر ازبکستان کے دورہ پاکستان کو تاریخی قرار دیدیا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے اڈیالہ آنے والے کسی بھی پارٹی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہ ملی دعوت اسلامی کے زیر اہتمام فیضان مدینہ اسلام آباد میں فری آئی کیمپ کا انعقاد پی ٹی آئی نے عمران خان کی صحت سے متعلق احتجاج کی کال دیدی سال 2026 کا پہلا سی ڈی اے بورڈ اجلاس، متعدد منصوبوں کی منظوری عمران خان کی ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے، شوکت یوسفزئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جنرل آف اکاونٹس پی ایس کیو سی اے ڈائریکٹر جنرل مالیاتی نظام کے ذریعے کی جانب کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔