ایران قونصلیٹ کراچی میں انقلابِ اسلامی کی 47ویں سالگرہ کی پُروقار تقریب، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز۔ مہمان خصوصی گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ میں اپنی پاکستانی قوم کو کہتا ہوں کہ انقلاب اسلامی نے ایران میں ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں، اگر ایک قوم بن کر کھڑے ہو جائیں تو ایران کی مثال موجود ہے کہ انقلاب اسلامی کے بعد ایران نے کہیں سے ڈکٹیشن نہیں لی، کسی کا حکم نہیں مانے گی، بلکہ ظلم و زیادتی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں گے۔ رپورٹ: سید ظفر جعفری
ایران میں حضرت امام خمینیؒ کی قیادت میں آنے والے اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کی مناسبت سے پُروقار تقریب کراچی میں ایران کے قونصل خانے میں منعقد ہوئی، ایرانی قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادہ کی میزبانی میں منعقدہ تقریب میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری، صوبائی وزراء، رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، ترجمان وزیراعلیٰ سندھ سیدہ تحسین عابدی، اعلیٰ حکام، متعدد سیاسی شخصیات، شیعہ اور سنی علماء کرام، کاروباری، تاجر و صنعتکار برادری، بشمول فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس، کراچی چیمبر آف کامرس کے عہدیداران اور اراکین سمیت سماجی اور میڈیا کے ساتھ وابستہ افراد نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب میں سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، عراق، کویت، چین، روس، قطر، عمان، انڈونیشیا، افغانستان، سری لنکا، ملائشیا، تھائی لینڈ کے قونصل جنرلز اور کراچی میں مقیم ایرانی شہریوں نے بھی شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور پھر پاکستان اور ایران کے قومی ترانوں کی دھنیں بجا کر کیا گیا۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے خطاب کرتے ہوئے قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادہ، ایرانی حکومت و عوام کو انقلاب اسلامی ایران کی 47ویں سالگرہ دی اور کہا کہ ایران نے پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کیا اور انقلاب اسلامی ایران کو بھی سب سے پہلے پاکستان نے تسلیم کیا، ایران میں انقلاب اسلامی عوام پر مسلط نہیں کیا گیا تھا، بلکہ انقلاب اسلامی عوام کی امنگوں کے عین مطابق تھا، آج ہمیں انقلاب اسلامی ایران کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ 47 سال بعد ایران نے کیا کچھ حاصل کیا اور نمایاں ترقی کی، انہوں نے کیسے اپنے آپ کو دنیا بھر میں منوایا ہے، انقلاب اسلامی کے بعد ایران دنیا میں تنہائی کا شکار نہیں ہوا، بلکہ اس نے ترقی کی منازل طے کیں، مسلط کردہ عالمی جبری پابندیوں کو مقابلہ کیا۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ اگر ہم مسلم ممالک ایکدوسرے کیساتھ کھڑے ہو جائیں تو دنیا میں کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکا، اور اگر مسلم ممالک خوفزدہ ہونگے تو صرف چند ہزار اسرائیلی پوری دنیا پر حکومت کرینگے اور ہم سب کا انجام فلسطین کی طرح ہوگا، جہاں آج چند ہزار صہیونی یہودیوں نے قبضہ کیا ہوا ہے اور ہم سب ایک خاموش تماشائی کی طرح دیکھ رہے ہیں اور اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔
گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان کا ایران سے برادر، اسلامی، ہمسایہ کے ساتھ ساتھ روحانیت کا تعلق ہے، ہر سال ہم پاکستانی کئی لاکھ کی تعداد میں زیارتوں پر ایران جاتے ہیں، پاک ایران تعلق حضرت امام رضا علیہ السلام کی نسبت سے ہے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے دورہ ایران پر اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ پاک ایران تجارت کو دس ارب ڈالر تک لے جائینگے، ہمیں پاک ایران بینکنگ چینل استوار کرنے کی ضرورت ہے، ہم پاک ایران تجارت سے متعلق دنیا کو اعتماد میں لیں گے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ میں اپنی پاکستانی قوم کو کہتا ہوں کہ انقلاب اسلامی نے ایران میں ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں، اگر ایک قوم بن کر کھڑے ہو جائیں تو ایران کی مثال موجود ہے کہ انقلاب اسلامی کے بعد ایران نے کہیں سے ڈکٹیشن نہیں لی، کسی کا حکم نہیں مانے گی، بلکہ ظلم و زیادتی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں گے، یہ ہم پاکستانی قوم کیلئے بھی ایک سبق ہے کہ ہمیں بھی ایک قوم بننا ہے، اسلامی ممالک نے بھی ایک ہونا ہے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے، ہمارے وسائل پر قبضہ کرنے والی قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ بزدلوں کے ساتھ کھڑا نہیں ہوتا، اسلام میں شہادت سب سے بڑا مرتبہ ہے، لیکن اگر ہمیں موت اور دشمن کی طاقت کا خوف ہو تو ہم اپنی آواز بلند نہیں کر سکیں گے اور اس کے نتیجے میں دشمن ہم پر غالب آجائیں گے جو فلسطین پر اپنی من مانی کر رہے ہیں، دس بار امن معاہدے کے باوجود معصوم بچوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں، نہتے مسلمانوں کو ظلم کا نشانہ بنا رہے ہیں، اگر ہم نے متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ نہیں کرینگے تو تجارتی و سفارتی محاذ پر بھی پیچھے ہونگے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا زیادہ طاقتور ملک بھارت کو اپنے دفاعی طاقت کے ذریعے خطے میں اسکی مسلط بالادستی کو نیست و نابود کر دیا، بھارت کو وہ مزہ چکھایا کہ آج تک اسکی دھول چاٹ رہا ہے، کیونکہ پاکستانی قوم ایک تھی، افواج میں جذبہ شہادت تھا اور ہم نے کسی سے ڈکٹیشن نہیں لی تھی۔ کامران ٹیسوری نے کہا کہ بحیثت گورنر سندھ پورے پاکستان میں میرا واحد گورنر ہاؤس تھا کہ جب اسرائیل نے فلسطین مسلمانوں پر حملے شروع کئے تو میں نے گورنر ہاؤس میں تمام سول سوسائٹی کو بلا کر کہا تھا کہ ہم اسرائیلیوں کے خلاف اعلانِ جہاد کرتے ہیں، مجھے کہا گیا کہ آپ سے کئی ممالک ناراض ہو جائیں گے، میں نے اسوقت کہا تھا کہ بس اللہ ناراض نہ ہو، باقی کو ہم دیکھ لیں۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ میں دو بار دورہ ایران پر گیا، مجھے لوگوں نے کہا کہ آپ ایران کا زیادہ سفر نہ کریں، لیکن مجھے بس اللہ کا ساتھ چاہیئے۔ کامران ٹیسوری نے کہا کہ میں ہمیشہ ایرانی حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ پاکستانی زائرین و طلاب کو ہمیشہ کی طرح سہولیات کی فراہمی جاری رکھے گی۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ فیڈریشن آف پاکستان چیبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، کراچی چیبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، تاجر و صنعتکار برادری کو چاہیئے کہ ایران کے ساتھ پاکستانی تجارتی وفود کا زیادہ سے زیادہ تبادلہ کریں، پاکستان اور ایران میں مشترکہ تجارتی و صنعتی نمائش لگائیں، تاکہ پاک ایران تجارت میں اضافہ ہو اور ہم ایکدسرے کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں، اللہ تعالیٰ ایران کی طرح دیگر مسلم ممالک میں بھی ترقی کا سفر جاری و ساری رہے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ حضرت امام خمینیؒ کی جدوجہد کو آگے بڑھانے پر آیت اللہ خامنہ ای کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، ہم مسلمان وہ قوم ہیں کہ ہمیں نہ چھیڑو ورنہ ہم تمہیں چھوڑیں گے نہیں۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے اپنے خطاب کا اختتام ایران پاکستان دوستی زندہ باد کے نعرے کے ساتھ کیا۔
ایرانی قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادہ نے خطاب ہوئے مہمان خصوصی گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، اعلیٰ حکومتی حکام، غیر ملکی قونصل جنرلز سمیت تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا۔ اکبر عیسیٰ زادہ نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران خداوند کریم کے کرم کے بعد ملت ایران کے عزم و استقلال اور جوانمردی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے، گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران، خطے کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے باوجود، اسلامی جمہوریہ ایران اپنی مقامی صلاحیت، سماجی ہم آہنگی اور پائدار انسانی وسائل کے سہارے مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سائنس ،ٹیکنالوجی اور صحت کے میدان میں ایران کی پوزیشن روز بروز بہتر ہو رہی ہے۔ ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ایران معیشت اور پیداواری میدان میں، عالمی طاقتوں کی ظالمانہ پابندیوں اور لعاشی بحرانوں کے باوجودترقی کی طرف گامزن ہے، ایران کی نان پیٹرولیم برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، سماجی میدان، انفراسٹرکچر ، صحت، ادویات کی پیداوار، ہاؤسنگ پراجیکٹس، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور مواصلاتی میدان میں ایران خودکفیل ہو چکا ہے اور اس سے عام عادمی کی زندگی میں بہت بہتری آئی ہے۔
اکبر عیسیٰ زادہ نے کہا کہ گزشتہ سال اسلامی جمہوریہ ایران کیلئے نشیب و فراز سے بھرپور سال رہا، امریکا کی غنڈہ گردی اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کے باوجود، اسلامی جمہوریہ ایران نے پوری نیک نیتی سے ایٹمی توانائی کے حوالے سے مذاکرات کی میز پر آیا، مذاکرات کے پانچ دور ہوئے اور چھٹا دور بھی طے تھا، اسی دوران ایران کے خلاف امریکا اور صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت کا مشاہدہ کیا، جس کے نتیجے میں معاشی نقصانات کے ساتھ ساتھ قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ایران میں ہونے والے حالیہ پ’رامن احتجاج کا آغاز بھی 7 جنوری 2026ء کو انہی معاشی بحرانوں کی بنیاد پر ہوا، لیکن پھر یہ احتجاج غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگرد عناصر کے ہاتھوں مسلح فسادات میں تبدیل ہو گئے، اس دوران ایرانی کی سیکیورٹی پر مامور لوگوں کی اچھی خاصی تعداد شہید اور زخمی ہوئی، یہ شہادتیں ان سیکیورٹی اداروں کے صبر و تحمل کے ساتھ ساتھ ان پُرتشدد کاروائیوں کی نشاندہی بھی کرتی ہیں، جو ان دہشتگرد عناصر نے انجام دیں، اس حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اس امر سے آگاہ تھی کہ پُرامن احتجاج کرنا شہریوں کا حق ہے اور ایرانی حکومت نے ان فسادات کے دوران ملکی سلامتی کو مدنطر رکھتے ہوئے کمال صبر تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو پرامن احتجاج کا حق دیا اور اپنی ذمہ داری بطریق احسن نبھائی، ملت ایران نے ایک بار پھر اپنی بصیرت و شعور کے تحت ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔
ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران کو بیک وقت امریکا اور اسرائیل کی فوجی، سیاسی اور میڈیا کے میدان میں بے شمار سازشوں کا سامنا ہے، اسلامی جمہوریہ ایران آنے والے زمانے میں بھی اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کیلئے سنجیدگی اور فیصلہ کن اقدامات کے ساتھ ساتھ ایرانی قوم کے مفادات اور علاقائی امن و سلامتی کے تحفظ کیلئے سفارت کاری کی راہ اپنائے گا، سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تمام ممالک کی قومی خودمختاری کو اہمیت دی جائے اور باہمی مفادات کا احترام کیا جائے، لہٰذا ایسے مذاکرات جو دھمکیوں اور دھونس پر مبنی ہوں اور یکطرفہ اور ناجائز مطالبات کے ساتھ ہوں کارگر ثابت نہیں ہو سکتے۔ ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے آپ کو خطے اور دنیا میں ایک ذمہ دار، آزاد اور بااثرملک سمجھتا ہے اور ایران نے ہمیشہ امن، استحکام اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کیلئے مذاکرات اور باہمی تعاون کی حمایت کی ہے خارجہ پالیسی کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران نے متوازن خارجہ پالیسی، متحرک سفارت کاری اور باہمی اشتراک و تعاون پر بھروسہ کرتے ہوئے پڑوسی ممالک اور ابھرتی ہوئی طاقتوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے ساتھ ساتھ اہم علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کی رکنیت کے ذریعے تعلقات کو وسعت دینے کا راستہ اپنایا ہے۔
اکبر عیسیٰ زادہ نے کہا کہ ہمارے تمام پڑوسیوں میں ہمارے دوست اور برادر ملک پاکستان اپنی درخشاں تاریخ، مذہب اور ثقافت کا مالک ہے، ایران و پاکستان کے باہمی تعلقات صدیوں پر محیط ہیں اور یہی وجہ ہے پاکستان ایرانی قوم کی نظر میں ایک خاص مقام رکھتا ہے، ان دونوں ممالک کے بیچ یہ گہرا تعلق نہ صرف یہ کہ ہمیشہ محفوظ رہا ہے، بلکہ ارباب اختیار کے بیچ مذاکرات کی کامیابی، معاشی تعاون کی بڑھوتری اور عوامی سطح پر میل جول کو مزید بڑھاوا دینے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اکبر عیسیٰ زادہ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ہم نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک خاص سرعت دیکھی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے ارباب اختیار معاشی، سیاسی اور ثقافتی میدان میں تعلقات کو مزید استحکام دینے کے ساتھ ساتھ خطے کی پیشرفت میں اپنا کردار ادا کرنے کا مضبوط ارادہ رکھتے ہیں۔ ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ آج تمام شعبوں میں اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں، دونوں ممالک کے رہنما اور عوام اس پائیدار دوستی پر فخر کرتے ہیں۔
ایرانی قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادہ نے کہا کہ ایران پاکستان تعلقات محض ریاستی تعلقات سے تعبیر نہیں ہیں بلکہ یہ درحقیقت دو قوموں اور دو ثقافتوں کے درمیان ایک سرگرم رشتہ ہے، جو مشترکہ تاریخ کی بنیاد پر قائم ہیں اور امن، دوستی اور دیرپا خوشحالی کے مشترکہ عزم سے قائم ہیں۔ ایرانی قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادہ نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے کہ ایران و پاکستان کے تعلقات کے استحکام میں صوبہ سندھ کا خاص کردار ہے، اس لیے میں خاص طور پر اہلیان سندھ کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، صوبہ سندھ اور ایران کے مختلف صوبوں کے درمیان سائن ہونے والے ایم او یوز اقتصادی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون کو وسعت دینے اور تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت کے نت نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں گے، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے گا، صوبہ سندھ میں بے شمار معاشی مواقع موجود ہیں اور اس صوبے کی قدیمی رواداری کے باعث یہ صوبہ ایران کے پاکستان کے تعلقات کو مزید بلندیوں پر لے جانے کی قابلیت رکھتا ہے، ہماری خواہش ہے کہ ایران اور پاکستان کے عوام اور حکومتوں کیلئے امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی ہو۔ تقریب کے آخر میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری سمیت دیگر وزراء نے ایرانی قونصل جنرل و غیر ملکی قونصل جنرلز کے ہمراہ انقلاب اسلامی ایران کی 47ویں سالگرہ کا کیک بھی کاٹا۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ ایرانی قونصل جنرل اکبر عیسی ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ا انقلاب اسلامی ایران بن کر کھڑے ہو جائیں کہ انقلاب اسلامی کی 47ویں سالگرہ دونوں ممالک کے زادہ نے کہا کہ پاکستانی قوم کے ساتھ ساتھ پاکستان کے نے کہا کہ ا بعد ایران پاک ایران اور ایران کے درمیان ایران میں ایران کے کہ ایران ایران نے جائیں گے ایران کی ف کامرس ترقی کی کے خلاف رہے ہیں ہیں اور نے والے کی طرح اور ہم کہ پاک اور اس تھا کہ ہے اور کے بعد
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔