ضلع شیرانی ختم نہیں کیا جا رہا، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ضلع شیرانی کو ختم کرنے سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر بے بنیاد ہے اور حکومت نے تاحال ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کی وجہ محرومی نہیں، مصالحتی پالیسی کی وجہ سے واقعات میں اضافہ ہوا، سرفراز بگٹی
ژوب کے دورے کے دوران قبائلی عمائدین اور مقامی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی محبت اور اعتماد ان کے لیے باعث اعزاز ہے اور حکومت عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے کوشاں ہے۔
ضلع شیرانی کی حیثیت برقرار رکھنے کی یقین دہانیوزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ضلع شیرانی کی انتظامی حیثیت برقرار ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔
مزید پڑھیے: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی نئی ذمے داری، چیف آف بگٹی قبائل مقرر
ان کا کہنا تھا کہ ضلع شیرانی سے متعلق امور پر مقامی رکن صوبائی اسمبلی اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ دوبارہ نشست کی جائے گی تاکہ تمام معاملات مشاورت سے طے کیے جا سکیں۔
متوازن ترقی حکومت کی ترجیحمیر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت فیصلے انتظامی بہتری اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھ کر کرتی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع کی متوازن اور یکساں ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
مزید پڑھیں: ‘کیا بارش برسانا میرے بس میں ہے؟’ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے یہ کیوں پوچھا؟
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے ہر علاقے کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ژوب شیرانی ضلع وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ژوب وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز