اپوزیشن عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کرے کسی کو کچھ کہنا ہے تو سپریم کورٹ جائے، رانا ثنا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم کے معاون خصوصی سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کرے کسی کو کچھ کہنا ہے تو سپریم کورٹ جائے۔
یہ بات انہوں نے سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس کے اظہار خیال کے جواب میں کہی۔
رانا ثنا اللہ نے ایوان میں جواب دیا کہ عمران خان کی صحت پر بیرسٹر سلمان صفدر نے جو رپورٹ دی ہے اس میں تمام سہولیات کا بتایا گیا ہے، جیل میں ایکسرسائز مشینیں، تین وقت کھانے کی رپورٹ دی گئی ہے، چیف جسٹس نے خود کہا ہے سلمان صفدر اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس ایک جیسی ہیں، سلمان صفدر کی رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ ان کے علاج میں انکار کیا گیا۔
مزید پڑھیںسینیٹ اجلاس میں عمران خان کی صحت کے معاملے پر احتجاج، اپوزیشن کی سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی
پی ٹی آئی نے عمران خان کی صحت سے متعلق احتجاج کی کال دے دی
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے جب بھی شکایت کی ان کا علاج کیا گیا، اس معاملے کو سیاسی انداز میں آگے بڑھانا اور کہنا یہ بہت بڑا جرم ہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت پر جیل سپرنٹنڈنٹ یا اس سائیڈ سے کوئی شخص سیاست کرے تو وہ بہت بڑا جرم ہے۔
رانا ثنا نے کہا کہ ان کا ملک میں جو سب سے اچھا علاج ہے وہ کرایا گیا ہے، کینسر اسپتال میں پمز سے اچھا کوئی ڈاکٹر ہے تو اس سے بھی چیک کروایا جاسکتا ہے، سپریم کورٹ نے دونوں رپورٹس دیکھ کر کہا ہے انہیں مزید کسی ماہر ڈاکٹر سے چیک کروایا جائے،
بانی پی ٹی آئی کے وکلاء کیساتھ بیٹھ کر جو بھی بات ہوئی ہے اس پر عمل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے کہتا ہوں کہ کسی کی صحت پر آپ کو بھی سیاست نہیں کرنی چاہیے اگر آپ کو اس میں مزید کچھ کہنا ہے تو آپ سپریم کورٹ چلے جائیں علامہ راجہ ناصر عباس صاحب آپ کو بھی اس معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عمران خان کی صحت سپریم کورٹ کی صحت پر
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔