مودی حکومت سونم وانگچک کے بیانات کا بہت زیادہ مطلب نکال رہی ہے، سپریم کورٹ کا تبصرہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا کہ جن بنیادوں پر وانگچک کی گرفتاری کا حکم جاری کیا گیا تھا وہ درست ہیں اور صحت کی بنیاد پر انہیں رہا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کشمیر کے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے، سپریم کورٹ نے قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت ان کی نظربندی کی بنیاد پر سوال اٹھایا اور کہا کہ مودی حکومت ان کے بیانات کا زیادہ مطلب نکال رہی ہے۔ مودی حکومت نے جسٹس اروند کمار اور جسٹس پی بی ورلے کی بنچ کو بتایا کہ ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی حراست کے بعد سے 24 طبی معائنے کئے گئے ہیں اور وہ "فٹ اور صحتمند" ہیں اور تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا کہ جن بنیادوں پر وانگچک کی گرفتاری کا حکم جاری کیا گیا تھا وہ درست ہیں اور صحت کی بنیاد پر انہیں رہا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ مہتا نے کہا "ہم نے وقتاً فوقتاً 24 بار ان کی صحت کی جانچ کی ہے۔ وہ تندرست اور ٹھیک ہیں۔ انہیں ہاضمے کے کچھ مسائل تھے، ان کا علاج چل رہا ہے۔ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہم اس طرح کی چھوٹ نہیں دے سکتے"۔ مہتا نے کہا کہ نظر بندی کے حکم کی وجوہات جاری ہیں اور صحت کی بنیاد پر انھیں رہا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ مناسب نہیں ہو سکتا۔ ہم نے اس پر غور کیا ہے۔
مودی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج نے یہ بھی کہا کہ وانگچک پرتشدد مظاہروں کو بھڑکانے میں اہم شخص کے طور پر شامل تھے۔ بنچ کے سامنے دلیل دی گئی کہ وانگچک نے نیپال اور عرب بہار کی مثالیں دے کر نوجوانوں کو اکسایا۔ بنچ نے پوچھا کہ وہ یہ کہاں کہہ رہے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے (نوجوانوں) نے اسے اپنا لیا ہے، وہ خود حیران ہیں۔ کے ایم نٹراج نے جواب دیا کہ بیان کی تشریح کی ضرورت ہے۔ نٹراج نے کہا کہ براہ کرم اگلے نکتے کی طرف آئیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لداخ میں مسلح افواج کی تعیناتی بدقسمتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نوجوان کہہ رہے ہیں کہ پرامن طریقے کارآمد ثابت نہیں ہوئے ہیں۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ نوجوان یہ کہہ رہے ہیں۔ پورا جملہ پڑھیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ تشویشناک بات ہے۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ پرتشدد طریقے صحیح نہیں ہیں.
سپریم کورٹ جمعرات کو بھی کیس کی سماعت جاری رکھے گی۔ وکیل سروام رتم کھرے نے بنچ کے سامنے وانگچک کی اہلیہ کی نمائندگی کی۔ سپریم کورٹ وانگچک کی بیوی گیتانجلی انگمو کی طرف سے دائر کی گئی ہیبیس کارپس کی درخواست کی سماعت کر رہی تھی، جس میں قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) 1980ء کے تحت ان کو جیل میں رکھنے کو غیر قانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انگمو نے کہا کہ گزشتہ سال 24 ستمبر کو لیہہ میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے لئے وانگچک کے اقدامات یا بیانات کو کسی بھی طرح ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہہ رہے ہیں کہ کی بنیاد پر سپریم کورٹ مودی حکومت وانگچک کی نے کہا کہ ہیں اور اور صحت مہتا نے صحت کی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔