اسپین میں ہنی بال کے جنگی ہاتھی کے ممکنہ آثار دریافت
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اسپین میں مشہور کارتھیجینین سپہ سالار ہنی بال کے جنگی ہاتھی کے ممکنہ آثار دریافت ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یونان میں دنیا کے قدیم ترین لکڑی کے اوزار دریافت، لاکھوں سال محفوظ رہنے پر سائنسدان حیران
سیویل شہر کے قریب آثار قدیمہ کے ماہرین نے ایک فوسل شدہ ہاتھی دانت کا ٹکڑا، کانسی کی بنی لگام کا حصہ اور ایک ہڈی دریافت کی ہے جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ہنی بال کے جنگی ہاتھی سے تعلق رکھ سکتی ہے۔
تاریخی روایات کے مطابق ہنی بال 37 ہاتھیوں کے ہمراہ اپنی فوج کے ساتھ جزیرہ نما آئبیریا سے گزرتے ہوئے پیرینیز پہاڑوں کو عبور کر کے جنوبی گال (موجودہ فرانس) تک پہنچا تھا۔
براہ راست آثار قدیمہ کا پہلا ممکنہ ثبوتیونیورسٹی آف کارڈوبا کے ماہر آثار قدیمہ اور تحقیق کے مرکزی مصنف نے لائیو سائنس سے گفتگو میں کہا کہ یہ ہڈی ایک انقلابی دریافت ثابت ہو سکتی ہے۔
اب تک ان جانوروں کے استعمال کا کوئی براہ راست آثار قدیمہ کا ثبوت موجود نہیں تھا۔
مزید پڑھیے: گھر کی تزئین و آرائش کے دوران دیواروں سے انسانی ہڈیاں برآمد، معاملہ کیا تھا؟
یہ ہڈی جنوبی اسپین کے ایک گاؤں میں کھدائی کے دوران مٹی کی اس تہہ سے برآمد ہوئی جس کی کاربن ڈیٹنگ کے مطابق عمر تقریباً 2,250 سال ہے۔
ایشیائی یا افریقی نسل؟تحقیق کے سربراہ مارٹینیز سانچیز کے مطابق فی الحال یہ حتمی طور پر کہنا ممکن نہیں کہ یہ ہڈی ایشیائی ہاتھی کی ہے یا نہیں۔
تاریخی طور پر یونانی بادشاہ پیروس آف ایپائرس جو اپنی اصطلاح ’پائریک فتح‘ کے لیے مشہور ہے نے تقریباً 280 قبل مسیح میں رومیوں کے خلاف ایشیائی ہاتھی استعمال کیے تھے جو پہلی پونک جنگ سے تقریباً ایک دہائی قبل کا زمانہ تھا۔
مزید پڑھیں: ایمیزون کی خواتین جنگجوؤں کی 3 نسلیں روس کے ایک قدیم مقبرے سے برآمد
تاہم ابتدائی تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹکڑا ممکنہ طور پر افریقی ہاتھی کی ایک معدوم ذیلی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ ہاتھی کارتھیجینین فوج کی پسندیدہ جنگی سواری تھے اور انہیں اسی مقصد کے لیے اسپین لایا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ دریافت ہنی بال کے جنگی ہاتھیوں سے منسلک ثابت ہو جاتی ہے تو یہ قدیم جنگی تاریخ کے ایک اہم باب کی توثیق ہو گی اور رومی و کارتھیجینین جنگوں کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آثار قدیمہ اسپین روم ہنی بال ہنی بال کے ہاتھی ہنی بال کے ہاتھی کی باقیات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپین ہنی بال ہنی بال کے ہاتھی کے مطابق
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
دنیائے کھیل کا سب سے بڑا اور مقبول ترین میلہ ’فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026‘ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔
فٹبال کی تاریخ کا یہ اب تک کا سب سے انوکھا اور تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا جس کی مشترکہ میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔
اس بار ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار 32 کے بجائے 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟
جہاں شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، وہی کھیلوں کے معروف ڈیٹا ماڈل ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے 10 ہزار سیمولیشنز تیار کر کے فاتح ٹیم کے حوالے سے ایک سنسنی خیز پیشگوئی کر دی ہے۔
ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اور راؤنڈ آف 32 کا تاریخی آغازماضی کے برعکس اس بار ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔
اس نئے فارمیٹ کے تحت ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جس سے ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ’راؤنڈ آف 32′ کا سنسنی خیز آغاز ہوگا۔
زیادہ ٹیموں کی شمولیت کے باعث جہاں مقابلوں کا جوش بڑھے گا، وہیں کسی بھی ٹیم کے لیے فائنل تک کا سفر طویل اور تھکا دینے والا ہوگا۔
اوپٹا سپر کمپیوٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟شائقین فٹبال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ کوئی روایتی فزیکل کمپیوٹر نہیں ہے۔ یہ دراصل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتہائی ایڈوانس ماڈل ہے جو فٹبالرز اور ٹیموں کے موجودہ فارم، ماضی کے ریکارڈز اور ہزاروں دیگر ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے۔
یہ ماڈل ڈیٹا کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو 10 ہزار سے زیادہ بار ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کرتا ہے اور پھر پیشگوئی کرتا ہے کہ کس ٹیم کے ٹورنامنٹ جیتنے، فائنل میں پہنچنے یا کسی خاص میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں۔
’اسپین‘ فیورٹ، مگر ایک بڑا دھچکا بھیاوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار ڈیجیٹل سیمولیشنز کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں، انہوں نے فٹبال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماڈل نے تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود ’اسپین‘ کو ٹرافی جیتنے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 16.1 فیصد ہے۔ تاہم دلچسپ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جہاں اسپین کو فاتح قرار دیا گیا ہے، وہیں ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ اسپین وہ واحد بڑی ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان 52.1 فیصد ہے۔ یعنی اگر اسپین ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے عبور کرنے میں کامیاب رہا، تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان 39 فیصد جبکہ فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہوگا۔
دیگر بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکاناتسپر کمپیوٹر کے مطابق ٹرافی کی دوڑ میں اسپین تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر روایتی حریف بھی اس کے تعاقب میں ہیں۔ سپر کمپیوٹر نے 4 بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس دوسرے نمبر پر ہے جس کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 13 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگلینڈ 11.2 فیصد امکان کے ساتھ تیسرے اور لیونل میسی کی ارجنٹینا (دفاعی چیمپیئن) 10.4 فیصد امکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ممکنہ فاتح قرار دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین امریکا اوپٹا سپر کمپیوٹر برطانیہ ٹیم فیورٹ حیران کن پیش گوئی فیفا ورلڈ کپ لندن ورلڈ کپ۔