(سٹی 42)صوبہ خیبر پختونخوا کےمشیر اطلاعات  شفیع جان نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش پائی جاتی ہے اور اس حوالے سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے احتجاج کے لیے کنٹینر تیار کر لیا گیا ہے اور اس کا رخ کسی بھی وقت کسی بھی شہر کی جانب موڑا جا سکتا ہے۔

37مردوں سے تنگ 3 خواتین۔۔روینا نے کر دیا انکا حرام جینا

چارسدہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےشفیع جان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات وزیراعظم کی خواہش پر ہوئی، جس میں کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ نے وزیراعظم کو دہشت گردی سے متعلق زمینی حقائق سے آگاہ کیا اور وفاق کے ذمے بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا۔گزشتہ روز کور کمانڈر اور وزیر داخلہ کی موجودگی میں بھی دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا گیا اور صوبے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

انٹر بینک میں سستا، اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت بڑھ گئی

شفیع جان نے ایک بار پھر کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے انہیں تشویش ہے اور احتجاجی حکمت عملی کے تحت کنٹینر تیار رکھا گیا ہے، جس کا رخ کسی بھی وقت تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے معلومات تک رسائی کے حق سے متعلق ریگولیشنز جاری کر دیے ہیں، جن کا مقصد شفافیت اور عوامی معلومات تک رسائی کے نظام کو بہتر بنانا بتایا جا رہا ہے۔

پاک بھارت میچ کی غیر یقینی صورتحال۔۔بارش سے متاثر ہونے کا خدشہ

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کنٹینر تیار خیبر پختونخوا کنٹینر تیار

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار