میٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ اور ان کی اہلیہ پرسِیلا چان نے امریکا کے مہنگے ترین رہائشی علاقوں میں شمار ہونے والے میامی کے انڈین کریک آئی لینڈ میں ایک نئی اور شاندار واٹر فرنٹ اسٹیٹ خرید لی ہے، اس جزیرے کو عرف عام میں ارب پتیوں کا بنکر کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مارک زکربرگ کا مارک زکربرگ کیخلاف مقدمہ، امریکا میں حیران کن قانونی جنگ

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ آف مارکیٹ ڈیل 150 سے 200 ملین ڈالر کے درمیان بتائی جا رہی ہے، جو میامی ڈیڈ کاؤنٹی کی مہنگی ترین جائیدادوں میں شامل ہو سکتی ہے۔ اس جزیرے پر تقریباً 40 گھروں پر مشتمل ایک مخصوص کمیونٹی قائم ہے، جس کی اپنی میونسپل حکومت اور نجی پولیس فورس موجود ہے جو خشکی اور پانی دونوں راستوں سے سیکیورٹی فراہم کرتی ہے۔

یہ جائیداد اس سے قبل جرسی مائیکس سبس کے بانی پیٹر کینکرو سے منسلک ایک ادارے کی ملکیت تھی، جس نے اسے 2021 میں 37 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔ اگرچہ سرکاری ریکارڈ میں ابھی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم ذرائع کے مطابق اس اسٹیٹ میں وسیع چھتیں، واٹر فرنٹ سوئمنگ پول اور نجی ڈاک شامل ہے، جہاں زکربرگ اپنی 300 ملین ڈالر مالیت کی سپر یاٹ لانچ پیڈ کھڑی کر سکتے ہیں۔

اس جائیداد کے ہمسایوں میں معروف آٹو موٹیو صنعتکار نارمن بریمن اور ان کی اہلیہ ارما بریمن بھی شامل ہیں، جنہوں نے حالیہ انٹرویو میں نئے پڑوسی کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا۔

مارک زکربرگ اور پرسِیلا چان کی مجموعی دولت 225 بلین ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔ وہ اب ان ارب پتی شخصیات کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جن میں جیرڈ کشنر، ایوانکا ٹرمپ، ٹام بریڈی، کارل آئیکن اور جیف بیزوس و ان کی اہلیہ لورین سانچیز بیزوس بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میٹا کے سربراہ زکربرگ کا ہالووین لُک وائرل، رومن بادشاہ بن کر انٹری

ماہرین کے مطابق کیلیفورنیا میں ارب پتیوں پر مجوزہ 5 فیصد ٹیکس اور فلوریڈا میں اسٹیٹ انکم ٹیکس کی عدم موجودگی جیسے عوامل بھی امیر ترین افراد کو میامی کی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ زکربرگ کی یہ خریداری مستقل رہائش کے لیے ہے یا محض ٹیکس حکمت عملی کے تحت جائیداد کے وسیع پورٹ فولیو میں ایک اور اضافہ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

Mark Zuckerberg we news ارب پتی انڈین کریک آئی لینڈ انسٹاگرام بنکر تھریڈ جائیداد جزیرہ فیس بک مارک زکربرگ میامی میٹا واٹس ایپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ارب پتی انڈین کریک آئی لینڈ انسٹاگرام تھریڈ فیس بک میامی میٹا واٹس ایپ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم