آزاد کشمیر، پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا، سردار تبارک علی مسلم لیگ (ن) میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
آزاد کشمیر میں انتخابات سے قبل سیاسی گہما گہمی میں تیزی آ گئی ہے اور پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کو ایک اور بڑا سیاسی جھٹکا لگا ہے۔ مظفرآباد ڈویژن کے حلقہ کوٹلہ سے پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما سردار تبارک علی نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی۔
شمولیتی تقریب میں وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینیئر امیر مقام بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے اور سردار تبارک علی کو مسلم لیگ (ن) کا مفلر پہنا کر جماعت میں باقاعدہ شامل کیا۔
یہ بھی پڑھیں:موجودہ حکومت کی کامیابی ہے کہ عوام کا ریاستی نظام پراعتماد بحال ہوا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر
تقریب میں وفاقی وزیر سردار محمد یوسف، ایم این اے ملک ابرار، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، پارلیمانی لیڈر راجہ فاروق حیدر، مشتاق منہاس، طارق فاروق، بیرسٹر افتخار گیلانی، نورین عارف اور دیگر رہنما بھی شریک تھے، جبکہ کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
وادی وزیر سردار محمد یوسف نے شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار تبارک علی کی پارٹی میں شمولیت کو خوش آئند قرار دیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ تبارک علی نے مشاورت کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔
سردار محمد یوسف کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں واضح اکثریت حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانے والی جماعت مسلم لیگ ہے اور نواز شریف کے دور میں ملک کو استحکام اور مضبوطی ملی، جبکہ شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان عالمی سطح پر نمایاں ہوا اور اسلامی دنیا کی مضبوط آواز بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی ہماری اولین ترجیح ہے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی قربانیاں قابلِ تحسین ہیں۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا دور آئے گا، نواز شریف کے دور میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے اور شہباز شریف حکومت نے بھی آزاد کشمیر کے لیے بڑے اعلانات کیے۔
یہ بھی پڑھیں:آصف زرداری کی زیرصدارت اہم اجلاس، آزاد کشمیر میں جیالا صدر لانے کا فیصلہ
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) نوجوانوں کو آگے لانے پر یقین رکھتی ہے اور پارٹی ٹکٹ میرٹ اور اعتماد کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت آئندہ انتخابات میں مضبوط اور متحد ہو کر حصہ لے گی اور عوام سے اپیل کی کہ مسلم لیگ (ن) کو کامیاب بنائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر پی ٹی آئی سردار تبارک علی مسلم لیگ ن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی سردار تبارک علی مسلم لیگ ن سردار تبارک علی مسلم لیگ انہوں نے ہے اور کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔