42 سالہ کم جونگ نے اپنا جانشین نامزد کردیا؟ حیران کن انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
شمالی کوریا (ویب ڈیسک)کم جونگ اُن کا جانشین کون ؟ جنوبی کوریا نے بتادیاشمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ ان دنیا کے طاقتور ترین رہنما تصور کیے جاتے ہیں جنھیں ان کی قوم ایک سپر نیچر شخصیت کا درجہ بھی دیتی ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ اُن کوئی پارلیمانی یا حکومتی عہدہ نہیں رکھتے لیکن ملک کی سب سے طاقت ور شخصیت ہیں۔
کم جونگ اُن حالیہ چند برسوں سے منظر عام سے پُراسرار طور پر غائب ہوجاتے ہیں جس سے افواہیں زیر گردش ہوئیں کہ وہ کسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ان افواہوں کو اس وقت مزید تقویت ملی جب انھوں نے اپنی بہن 38 سالہ کم یو جونگ کو سیاسی اور حکومتی تقریبات میں لانا شروع کیا۔کم جونگ اُن نے انھی دنوں اپنی بہن کو کئی اہم حکومتی ذمہ داریاں بھی سونپیں اور ان کی غیر موجودگی میں وہ سب سے طاقتور شخصیت بن کر ابھری۔
تاہم کبھی کم جونگ ان نے یہ تاثر نہیں دیا کہ وہ اپنی بہن کو جانشین مقرر کرنا چاہتے ہیں اور اسی لیے ان کی تربیت کر رہے ہیں۔ابھی بہن کم یو جونگ کی جانشینی کے بارے میں چی مہ گوئیاں جاری تھیں اور دنیا انھیں بطور نئے حکمراں کے قبول کرنے والی تھی کہ کم جونگ ان نے سب کو چونکا دیا۔کم جونگ اُن غیر معمولی طور پر اپنی 12 سالہ بیٹی کم جو اے کو منظر عام پر لے آئے جو اس سے قبل سامنے نہیں آئی تھیں۔کم جونگ ان اپنی بیٹی کو سیاسی اور حکومتی تقریبات حتیٰ کہ حساس ملٹری ایونٹس میں ساتھ لانے لگے جب کہ ان کی بہن کم یو جونگ کہیں پیچھے رہ گئیں۔شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ اُن نے تاحال اپنی بیٹی کو بھی جانشین بنانے کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن ایسا صاف نظر آرہا ہے کہ وہ بیٹی کی تربیت میں لگے ہیں۔
ویسے تو کم جونگ اُن کی اہلیہ 37 سالہ ری سول جو بھی ممکنہ جانشین میں سے ایک ہوسکتی ہیں جو 2012 سے مسلسل سرکاری تقریبات میں متحرک نظر آرہی ہیں۔
تاہم ان تینوں میں سے کم جونگ اُن کے ساتھ جو شخصیت سب سے زیادہ اور حساس ترین تقریبات میں بھی ساتھ ہوتی ہیں وہ ان کی بیٹی ہی ہیں۔
شمالی کوریا کے پڑوسی ملک اور سب سے سخت مخالف جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ کم جونگ اُن نے اپنی نوعمر بیٹی جانشین مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ بات جنوبی کوریا کی قومی انٹیلی جنس سروس نے قانون سازوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائی اور ساتھ ہی بطور ٹھوس شواہد ان کی حالیہ سرگرمیوں کا ڈیٹا بھی پیش کیا۔
جنوبی کوریا کے رکن پارلیمنٹ لی سیونگ-کوین نے صحافیوں کو بتایا کہ پہلے کم جونگ اُن کی بیٹی کے جانشین بنائے جانے کا صرف تاثر تھا تاہم اب وہ باقاعدہ نامزدگی کے مرحلے میں پہنچ چکی ہیں۔
12 سالہ جانشین کم جو اے کون ہیں؟
کم جونگ اُن اور ان کی اہلیہ ری سول جو کی منظر عام پر آنے والی واحد اولاد کم جو اے ہی ہیں حالانکہ جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی کا خیال ہے کہ کم جونگ اُن کا ایک بڑا بیٹا بھی ہے، تاہم اس کا کبھی سرکاری طور پر اعتراف نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسے سرکاری میڈیا میں دکھایا گیا ہے۔
شمالی کوریا کے حکمراں کی بیٹی کم جو اے کا نام پہلی بار 2013 میں سامنے آیا تھا جب امریکی باسکٹ بال کھلاڑی ڈینس روڈمین نے برطانوی اخبار کو انٹرویو میں بتایا کہ انھوں نے شمالی کوریا کے دورے کے دوران “بچی کم جو اے” کو گود میں اٹھایا تھا۔
کم جو اے پہلی بار 2022 میں سرکاری ٹیلی وژن پر نظر آئیں جب وہ اپنے والد کے ہمراہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) کے معائنے کے موقع پر موجود تھیں۔
اس کے بعد سے حالیہ مہینوں میں کم جو اے متعدد فوجی اور سرکاری تقریبات میں اپنے والد کے ہمراہ دکھائی دی ہیں، جن میں کورین پیپلز آرمی کی سالگرہ اور کم خاندان کے مقبرے “کمسوسان پیلس آف دی سن” کا دورہ شامل ہے۔
ریاستی میڈیا کی جاری کردہ تصاویر میں وہ اکثر اپنے والد کے شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دیتی ہیں جو شمالی کوریا جیسے سخت درجہ بندی والے معاشرے میں غیرمعمولی علامتی اہمیت رکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک