اسرائیل کی حمایت میں فرانس کا ایک اور قدم، اقوام متحدہ کی نمائندہ سے استعفے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اپنے ایک بیان میں فرانسوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ فرانچسکا آلبانیز، قابض صیہونی رژیم اور اسرائیلیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ وہ صیہونیوں کیخلاف نفرت انگیز گفتگو کو فروغ دے رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ فرانسوی وزیر خارجہ "جان نوئل بارو" نے مطالبہ کیا کہ فلسطین کے لئے اقوام متحدہ کی نمائندہ "فرانچسکا آلبانیز" مستعفی ہو جائیں۔ فرانس کا یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب دوحہ میں الجزیرہ کانفرنس کے دوران فرانچسکا آلبانیز نے موقف اپنایا کہ بین الاقوامی نظام نے غزہ میں نسل کشی کا مقدمہ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے بہت سے ممالک نے اسرائیل کو جدید اسلحے سے لیس کیا اور اسے انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب پر سیاسی و اقتصادی شیلڈ مہیا کی۔ اس لئے یہ نظام وہ مشترکہ دشمن ہے جس نے اس نسل کشی کو ممکن بنایا۔ جس کے برعکس فرانسوی وزیر خارجہ نے بغیر کوئی وضاحت پیش کئے فرانچسکا آلبانیز پر الزام لگایا کہ وہ قابض صیہونی رژیم اور اسرائیلیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ وہ صیہونیوں کے خلاف نفرت انگیز گفتگو کو فروغ دے رہی ہیں۔ دوسری جانب فرانچسکا آلبانیز نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ان کی تنقید کا نشانہ بین الاقوامی نظام کا انفراسٹرکچر اور اس کے معاونتی میکانزم تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کسی خاص قوم یا مذہب پر حملہ نہیں کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فرانچسکا ا لبانیز رہی ہیں اور اس
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔