امریکا: ووٹ ڈالنے کیلیے شہریت کا بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکا میں ووٹ ڈالنے کے لیے شہریت کا بل ایوان نمائندگان سے منظور کرا لیا گیا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں ووٹ ڈالنے کے لیے شہریت کا ثبوت لازمی قرار دیے جا نے کا بل منظور کرلیا گیا ہے ۔ مذکورہ حوالے سے اعلیٰ کے مطابق سیو امریکا ایکٹ ایوان نمائندگان سے پاس ہو گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق ایوان نمائندگان میں 218 ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ دوسری طرف 213 اراکین نے اس کی مخالفت کی۔
واضح رہے کہ ہاو¿س اسپیکرکا کہنا تھا کہ غیر قانونی ووٹرز کی حوصلہ شکنی کے لیے اقدام ناگزیر ہے۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لیے شہریت کا ثبوت لازم قرار دے دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لیے شہریت کا ووٹ ڈالنے میں ووٹ کے لیے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔