اڈیالا جیل میں سہولیات کی رپورٹ: عمران خان کا دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ جانے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی:اڈیالا جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فراہم سہولیات سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ سامنے آگئی ہے جس میں ان کی روزمرہ روٹین، طبی حالت، سکیورٹی انتظامات اور سیل میں دستیاب اشیاء کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی کم ہو کر صرف 15 فیصد رہ گئی ہے اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کا معائنہ ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے کرایا جائے جبکہ کسی ماہر ڈاکٹر سے طبی معائنہ کروانے کی بھی اجازت دی جائے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان نے اپنی حفاظت سے متعلق کسی تشویش کا اظہار نہیں کیا اور درخواست گزار کو بتایا کہ ان کے کمپاؤنڈ میں نگرانی کے لیے تقریباً 10 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، جن میں سے ایک کیمرہ غسل خانے کے حصے تک کوریج دیتا ہے تاہم سیل کے اندر کوئی کیمرہ موجود نہیں،انہیں ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کے باعث کتابیں فراہم کرنے کی ہدایت دی جائے۔
عدالت میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق عمران خان صبح تقریباً 9 بج کر 45 منٹ پر ناشتہ کرتے ہیں، ساڑھے 11 بجے کے قریب ایک گھنٹے تک قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہیں اور پھر محدود ورزش کے آلات سے ورزش کرتے ہیں۔ دوپہر 1 بج کر 15 منٹ پر غسل کے بعد انہیں محفوظ کمپاؤنڈ میں چہل قدمی کی اجازت ملتی ہے جبکہ دوپہر کا کھانا تقریباً 3:30 سے 4 بجے کے درمیان دیا جاتا ہے۔ شام ساڑھے 5 بجے سے اگلی صبح 10 بجے تک وہ اپنے سیل میں مقید رہتے ہیں۔
رپورٹ میں سیل کی سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اندر 3 ہائی وولٹیج بلب، چھت والا پنکھا، بلوور ہیٹر، دو میزیں، ایک چارپائی، کرسی، وال کلاک اور چھوٹا ریک موجود ہے۔ دیوار پر نصب 32 انچ ٹی وی خراب پایا گیا جبکہ کپڑے پانچ ہینگرز پر لٹکے ہوئے تھے۔ سیل میں جائے نماز، تسبیح، چار تکیے، دو کمبل، دو تولیے اور تقریباً 100 کتابیں بھی موجود تھیں۔
کھانے پینے سے متعلق بتایا گیا کہ وہ ناشتے میں کافی، دلیہ اور کھجوریں لیتے ہیں جبکہ دوپہر کے کھانے کے اخراجات ان کا خاندان برداشت کرتا ہے اور ہفتہ وار منصوبہ بندی کے تحت دو دن مرغی، دو دن گوشت، دو دن دال یا اسنیکس شامل ہوتے ہیں۔ انہیں بوتل بند پانی فراہم کیا جاتا ہے اور وہ مکمل کھانے کے بجائے پھل، دودھ اور کھجوریں زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
طبی صورتحال کے حوالے سے عمران خان کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2025 تک دونوں آنکھوں کی بینائی نارمل تھی، بعد میں دھندلاہٹ شروع ہوئی جس سے جیل حکام کو آگاہ کیا گیا مگر مؤثر اقدام نہ ہوا، دائیں آنکھ میں خون کا لوتھڑا بننے سے شدید نقصان پہنچا اور علاج، بشمول ایک انجیکشن، کے باوجود بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی، رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سیل بلاک کا کچن سامان سے لیس ہے تاہم صفائی میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔