بانی پی ٹی آئی کی بینائی متاثر ہونے کی خبریں پریشان کُن ہیں، خواجہ سعد رفیق
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
خواجہ سعد رفیق : فائل فوٹو
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی بینائی متاثر ہونے کی خبروں کو پریشان کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہر جیل سخت ہو یا نرم اپنے قیدی کو ایک بیماری کا تحفہ ضرور دیتی ہے، یہ جگ بیتی بھی ہے اور آپ بیتی بھی، بانی پی ٹی آئی کی بینائی متاثر ہونے کی خبریں تواتر سے آرہی ہیں اور یہ پریشان کُن ہیں۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ فوری اور موثر علاج ہر انسان کا بنیادی حق ہے، مریض اگر قیدی ہو اور آپ کا سیاسی مخالف بھی ہو تو اس کے حقوق کی حفاظت کرنا زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہمیں کسی ایک دن تو اکھٹا ہونا چاہیے، مل جانا چاہیے، ہم سیاستدان تو اکٹھے ہوں، ہم کب تک آپس میں لڑتے رہیں گے، ہمیں معلوم ہے اصل مجرم کون ہے، سامنے حکومت ہے ہم ان سے پوچھیں گے، یہ ذمہ دار ہیں۔
رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ اصولاً بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ یا پارٹی کو سپریم کورٹ تک جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑنی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ان کے دور حکومت میں سیاسی مخالفین سے بدسلوکی کے واقعات دہرانا اعلیٰ ظرفی نہیں ہوگا، حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر سرکاری موقف جاری کیا جائے، بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ سے ان کی ملاقات کروائی جائے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی منشا کے مطابق ڈاکٹرز کو ان تک رسائی دی جائے، بانی پی ٹی آئی کے بہترین علاج کیلئے تمام ممکن اقدامات کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی کی خواجہ سعد رفیق کی بینائی نے کہا کہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔