ایران کیساتھ مذاکرات؛ امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بیڑہ بھیجنے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات سست روی کے ساتھ جاری ہیں تاہم فریقین نے اسے امید افزا قرار دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس کے باوجود امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں دوسرے طیارہ بردار بحری بیڑے کی تعیناتی کی تیاری شروع کردی۔
امریکی میڈیا کے مطابق جنگی بیڑے ’’یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش کیریئر اسٹرائیک گروپ‘‘ کو روانگی کیلئے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش (CVN-77) ایک نیوکلیئر طاقت سے چلنے والا سپر کیریئر ہے جو اس وقت ورجینیا کے ساحل کے قریب تربیتی مشقوں میں مصروف ہے۔
حکام کے مطابق اس کے تربیتی شیڈول کو مختصر کر کے آئندہ دو ہفتوں میں ممکنہ روانگی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
یہ جہاز نِمِٹز کلاس کا جدید ترین اور آخری طیارہ بردار بحری جہاز ہے، جس نے 2023 کے اوائل میں آٹھ ماہ پر مشتمل بڑی تعیناتی مکمل کی تھی۔
دریں اثنا فروری 2026 تک اسے دوبارہ تیز رفتار تعیناتی کیلئے ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ کو سمندر میں ایک مکمل جنگی شہر تصور کیا جاتا ہے، جس میں ہزاروں اہلکار اور جدید ترین اسلحہ شامل ہوتا ہے۔
اگر یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش مشرقِ وسطیٰ پہنچتا ہے تو وہ یو ایس ایس ابراہام لنکن (CVN-72) کے ساتھ شامل ہوگا جو جنوری کے آخر میں بحیرۂ عرب پہنچ چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق تقریباً ایک سال بعد پہلی بار ہوگا کہ دو امریکی سپر کیریئر بیک وقت خطے میں آپریشنل ہوں گے جسے ایران کیلئے واضح عسکری پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز اور بحیرۂ عرب میں امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یو ایس ایس کے مطابق
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :