Express News:
2026-07-24@01:18:17 GMT

ایک اہم شخصیت سے ملاقات

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

لاہور میں میڈیا نمائیندگان سے اہم سیکیورٹی عہدیدار کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلائے جانے، کور کمانڈر پشاور کے دفتر میں اہم سیکیورٹی اجلاس میں شرکت ، شہید فوجی افسر کے جنازے میں شرکت پر کئی سوال ہوئے۔

ان تمام سوالوں کے جواب میں یہی کہا گیا کہ ہم سب کو اس پر خوش ہونا چاہیے، اس کو مثبت انداز میں لینا چاہیے۔ پاکستان کی فوج کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ ہم ریاست کے لیے کام کرتے ہیں اور جب آپ آئین میں ریاست کی تعریف پڑھیں گے تو اس میں صوبائی حکومتیں شامل ہیں۔ ہم ہر وقت سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون پر تیار رہتے ہیں۔

ہم کے پی کی حکومت سے بھی اس ضمن میں بھر پور تعاون کے لیے تیار تھے اور ہیں۔ اس میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم سیاسی تناظر میں کیے گئے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا گیا اور گفتگو کو دہشت گردی میں تعاون کی حد تک ہی محدود رکھاگیا ۔یہ کہا گیا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بھی نیشنل ایکشن پلان ہی کنجی ہے، اس سلسلے میں پختونخواہ میں کی جانے والی حالیہ میٹنگز خوش آئند ہے

یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے خاتمے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا۔ یہ الگ بیانئے اور الگ الگ موقف دراصل دہشت گردوں کے حوصلہ بلند کرتا ہے۔ اسی لیے نیشنل ایکشن پلان میں یہ بات طے کر دی گئی تھی ملک میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف ایک موقف اور ایک ہی بیانیہ ہوگا۔ ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ وقت کی ضرورت پالیسی میں یکسوئی اور یک زبان ایک بیانیہ ہے۔

آج سب سے اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز، فوج، پولیس یا ایف سی کی جنگ سمجھی جا رہی ہے۔ حالانکہ یہ پوری قوم کی جنگ ہے، جب تک ہم سب اس کو اپنی جنگ نہیں سمجھیں گے ۔ ہم دہشت گردوں کو شکست نہیں دے سکتے۔ دہشت گردی کے معاملہ پر قوم کو تقسیم کرنا دراصل دہشت گردوں کی سہولت کاری ہے۔ اسی لیے جب دہشت گردی کے واقعہ کے بعد قوم کو تقسیم کر کے کچھ قوتیں دراصل دہشت گردوں کا تحفظ کر رہی ہوتی ہیں۔

اس سوال پر کہ ملک میں دہشت گردوں کو شکت کیسے دی جا سکتی ہے۔ ہم کئی سال سے دہشت گردی کا شکار ہیں۔ لیکن اس کو مکمل ختم نہیں کر سکتے۔ جواب دیا گیا کہ ہمیں اپنے دشمن پرنظر رکھنی چاہیے۔ کیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا نہیں رہا۔ اس لیے ہمارے پاس دہشت گردی کو شکست دینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات مد نظر رکھنی ہوگی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد سے مشروط ہے اور پاکستان کے اندر تمام سپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، جب ہمارا بیانیہ اور فوکس ٹھیک ہوگا تو نتائج بھی ٹھیک آئیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ اب دہشت گردی سے نبٹنے کا واحد حل افغانستان پر بمباری نہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ سوچ بھی مکمل طورپر درست نہیں۔ ہمیں پاکستان کے اندر بھی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ابھی کافی کام کرنا ہے۔ آپ ترلائی کے واقعہ میں دیکھیں خود کش بمبار پاکستانی ہے۔ یہ درست ہے کہ حالیہ ترلائی امام بارگاہ کے حملہ آور کو دہشتگردانہ حملے کی ٹریننگ افغانستان نے دی۔ لیکن ہے وہ پاکستانی ۔ اس لیے ملک کے اندر بھی دہشت گردی کے ختم کرنے کے لیے جس کام کی ضرورت ہے جب تک وہ بھی نہیں ہوگا تب تک باہر سے ختم بھی کردیں گے تو ختم نہیں ہوگی۔ اندر اور باہر دونوں جگہ صفائی کرنا ہوگی۔ ہم افغانستان پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس لیے یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ بیرونی اور اندرونی سازشی عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں ناگزیر ہیں اور دونوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔

آپ کی کوئی بھی سیاسی یا مذہبی سوچ ہو، اس سے فرق نہیں پڑتا، البتہ دہشت گردی کے خلاف ہمیں متحد ہونا ہے۔ ہمیں قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر ہر گز تقسیم نہیں ہونا بلکہ متحد رہ کر تمام فتنوں کا خاتمہ کرنا ہے، فتنہ الہندوستان درحقیقت بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے۔ دہشت گردی کو مددا سمگلنگ سے بھی ملتی ہے۔ اسی لیے آج سے تین سال قبل 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ ہوتی تھی، جو اب بہت کم ہو چکی ہے۔ بلوچستان کے کچھ علاقوں کے لیے ایرانی ڈیزل چاہیے کیونکہ وہاں پاکستان کی آئل کمپنیاں نہیں ہیں۔ لیکن ہم نے مقدار بہت کم کر دی ہے۔ کیونکہ ایرانی تیل کی اسمگلنگ کا پیسہ بھی بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو جارہا تھا۔، اسمگلنگ کا پیسہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہوتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کاکہنا تھا کہ فوج مخالف بیانیہ پر سیاست کرنا ملک کو تقسیم کرنے کی سیاست ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے درمیان کارکردگی کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ کس نے عوام کی کتنی بہتر خدمت کی۔ جب خدمت نہ ہو تو فوج مخالف بیانیہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ گُڈ گورننس ہی ایک واحد ذریعہ ہے جو دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرسکتا ہے۔ گڈ گورننس ہوگی تو لوگوں کا احساس محرومی ختم ہوگا۔

اس سوال پر کہ فوج کے اہم عہدیدار یونیورسٹیوں میں طلبا سے بات چیت کے لیے جا رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل بھی نوجوانوں سے بات چت کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ تھا کہ فوجی قیادت کے تعلیمی اداروں کے دوروں سے یہ بات مزید واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کے عوام خصوصاً نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ فوج نے نوجوان نسل سے ڈائیلاگ میں محسوس کیا ہے کہ نوجوان فوج کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے اس موقع پر پرجوش انداز میں کہا کہ کسی کے باپ میں بھی اتنی طاقت نہیں کہ قوم اور فوج کے درمیان تقسیم پیدا کر سکے۔ ایسی کوششیں ماضی میں بھی ناکام ہوئی ہیں۔ اب بھی ناکام ہیں۔ عوام اور فوج یکسو اور متحد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کوئی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا، ہمارا بیانیہ صرف پاکستان ہے۔

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے اس بیان پر کہ پاک فوج صرف چار اضلاع کی فوج ہے ‘کا جواب یہ تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پر حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ پاک فوج میں پورے ملک کی نمائندگی موجود ہے۔ سب علاقوں سے لوگ فوج میں آتے ہیں۔ پنجاب کی اتنی ہی تعداد ہے جتنی پنجاب کی آبادی ہے۔ صرف گلگت بلتستان اور کشمیر سے فوج میں لوگوں کی تعداد ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ ہے۔ ان کی آبادی دو فیصد کے قریب ہے اور فوج میں ان کی تعداد نو فیصد ہے۔ باقی سب علاقوں سے لوگ ان کی آبادی کے مطابق لیے جاتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دہشت گردی کے خلاف دہشت گردی کو کی ا بادی انھوں نے فوج میں پاک فوج ان کی ا کہا کہ فوج کے گیا کہ کے لیے یہ بات

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار