یوکرینی جنگ کے دوران روسی فوج میں 1400افریقی شامل ہوئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیف (انٹرنیشنل ڈیسک) یوکرینی جنگے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنگ میں 1417 افریقی شہریوں کو روسی فوج میں شامل کیا گیا، جن میں سے 300 سے زائد محاذِ جنگ پر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس رپورٹ سے بھرتی مہم کے دائرہ کار اور اثرات پر نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔نیٹ ورک نے پہلی بار ان افراد کے ناموں کی فہرست بھی جاری کی ہے۔یہ فہرست نیٹ ورک کو یوکرینی پروگرام آئی وانٹ ٹو لِو کے ذریعے حاصل ہوئی، جو روسی فوجیوں کو بغاوت کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس فہرست سے افریقی براعظم میں ہونے والی بھرتیوں کے حجم کا اندازہ ہوتا ہے۔فہرست میں 35 افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے 1417 افراد کے نام شامل ہیں، جنہیں جنوری 2023 ء سے ستمبر 2025 ء کے درمیان روسی فوج میں بھرتی کیا گیا۔ ان میں سے 316 افراد محاذجنگ پر مارے گئے۔ تاہم نیٹ ورک کے مطابق یہ فہرست ممکنہ طور پر مکمل نہیں اور اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افریقی شہریوں کی بھرتی کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچا سمجھا اسٹریٹجک ستون ہے، کیونکہ جنگ کے تسلسل کے ساتھ ماسکو کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔