Jasarat News:
2026-06-02@20:43:33 GMT

یوکرینی جنگ کے دوران روسی فوج میں 1400افریقی شامل ہوئے

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کیف (انٹرنیشنل ڈیسک) یوکرینی جنگے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنگ میں 1417 افریقی شہریوں کو روسی فوج میں شامل کیا گیا، جن میں سے 300 سے زائد محاذِ جنگ پر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس رپورٹ سے بھرتی مہم کے دائرہ کار اور اثرات پر نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔نیٹ ورک نے پہلی بار ان افراد کے ناموں کی فہرست بھی جاری کی ہے۔یہ فہرست نیٹ ورک کو یوکرینی پروگرام آئی وانٹ ٹو لِو کے ذریعے حاصل ہوئی، جو روسی فوجیوں کو بغاوت کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس فہرست سے افریقی براعظم میں ہونے والی بھرتیوں کے حجم کا اندازہ ہوتا ہے۔فہرست میں 35 افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے 1417 افراد کے نام شامل ہیں، جنہیں جنوری 2023 ء سے ستمبر 2025 ء کے درمیان روسی فوج میں بھرتی کیا گیا۔ ان میں سے 316 افراد محاذجنگ پر مارے گئے۔ تاہم نیٹ ورک کے مطابق یہ فہرست ممکنہ طور پر مکمل نہیں اور اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افریقی شہریوں کی بھرتی کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچا سمجھا اسٹریٹجک ستون ہے، کیونکہ جنگ کے تسلسل کے ساتھ ماسکو کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق