data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جام شورو(نمائندہ جسارت)جامشورو تھرمل پاور ہاؤس کے قریب گوٹھ محمد کھوسو میں کپڑے فروخت کرنے والی خاتون صابرہ پٹھان کو زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیاتھا،بہیمانہ قتل کے خلاف جامشوروسیاسی و سماجی رہنما حاجی واحد بخش بھلائی اور دیگر سماجی تنظیموںنے احتجاجی ریلی نکالی اور شہر کا گشت کرنے کے بعد جامشورو ڈسٹرکٹ پریس کلب کے سامنے پہنچ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر مظاہرین حاجی واحد بخش بھلائی،ڈسٹرکٹ پریس کلب جامشورو کے صدر عرفان برفت، دکاندار رہنما رحیم جمالی، سماجی رہنما این بی کھوسو، آزاد سنجرانی کے اے آئی اے رہنما مولانا انور بلیدی اور دیگر نے کہا کہ پولیس نے پہلے قاتل کو گرفتار کیا لیکن کسی کسی بااثر شخصیات کے کہنے پر اسے رہا کردیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا اس قتل میں صاف ظاہر ہے پولیس ملوث تھی۔ مظاہرین رہنماؤں نے کہاکہ اِن اہلکاروں کو قتل کیس میں شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قتل کوکئی دن گزر چکے ہیں لیکن پولیس قاتلوں کو گرفتار نہیں کر سکی ہے جس کی وجہ سے کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ قاتلوں کو گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے۔ بعد اَزاں احتجاجی رہنما مقتولہ خاتون کے لواحقین کے پاس گئے انہوں نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا